القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 288

۲۸۸ إِذَا مَا نَقُولُ هَلُمَّ لَا تَنُبَرِئُ لَنَا وَفِي بَيْتِكَ المَنْحُوسِ تَهْذِى وَتَرْتَقِى جب کہیں آ! تو ہمارے مقابل پر آتا نہیں اور اپنے منحوس گھر میں بکتا اور اوپر چڑھتا ہے۔دَعَوْتَ فَا كُثَرْتَ الدُّعَاءَ لِنَكْبَتِي فَوَاللَّهِ زِدْنَا بَعْدَهُ فِي التَّفَتُّقِ تو نے بددعا کی اور میری ادبار کیلئے بہت بد دعا کی بس بخدا ہم بعد اس کے تنعیم میں زیادہ ہوئے۔عَرَضْنَا عَلَيْكُمْ رَحْمَةً أَمْرَ رَبِّنَا فَلَمْ تَحْفِلُوا كِبَرًا وَقَدْ كُنْتُ أَشْفَقِ ہم نے مہربانی سے اپنے رب کا امر تمہارے پیش کیا پس تم نے کچھ پرواہ نہ کی اور میں ڈرتا تھا۔وَقُلْتُ لَكُمْ تُوبُوا وَ لَا تَتْرُكُوا الْحَيَا فَزِدْتُمْ عِنَادًا وَاعْتَدَيْتُمْ كَافُسُقِ اور میں نے کہا کہ تو بہ کرو اور حیا کو مت چھوڑو۔پس تم عناد کی رو سے بڑھ گئے اور حد سے زیادہ گذر گئے جیسا کہ فاسق ہوتے ہیں۔وَإِنِّي حَبَسْتُ النَّفْسَ عِندَ فُضُولِكُمْ صَبُورًا عَلَى سَبِّ وَشَتُمٍ مُحَرِّقِ اور میں نے تمہاری بکو اس کے وقت اپنے تئیں روکا اور تمہاری گالیوں پر صبر کیا۔وَوَاللَّهِ لَا يُخْرَى الصَّدُوقَ بِقَوْلِكُمُ اَيَرُهَقُ قَتْرٌ وَجْهَ مَنْ كَانَ أَصْدَقِ اور بخدا! صادق تمہاری بات کے ساتھ رسوا نہیں کیا جائیگا۔کیا صادق کے منہ پر غبار آ سکتی ہے۔فَتُوْبُوا إِلَى الرَّبِّ الْوَرى وَاسْتَغْفِرُوا وَلَا تَشْتَرُوا بِالْحَقِّ عَيْشًا مُرَمَّقٍ پس خدا کی طرف تو بہ کرو اور گناہ کی معافی چاہو اور تھوڑے عیش کیلئے حق کو مت چھوڑو۔(حجة الله۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۲۲۴ تا ۲۴۸)