القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 283 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 283

۲۸۳ كَبُكُم اَرَاكُمْ أَوْ كَاحَمُرَةِ الْفَلَا غَدَا طَلْقُ الْسِنِكُمْ كَزَوْجٍ تُطَلَّقُ میں گونگوں کی طرح تمہیں دیکھتا ہوں یا جنگل کے گدھوں کی طرح اور تمہاری زبان کی روانگی ایسی کھوئی گئی جسے عورت کو طلاق دی جاتی ہے۔ا تَحْسِبُ أَنَّ الْقَوْلَ قَوْلُ الْأَجَانِبِ وَقَدْ صُبَّ مِنْ عَيْنِي كَمَاءٍ مُدَغْفَقِ کیا تو گمان کرتا ہے کہ یہ قول غیروں کا قول ہے حالانکہ یہ میرے چشمہ سے پانی ٹپکنے والے کی طرح گرایا گیا ہے۔فَمَا هِيَ إِلا كَلِمَةٌ قِيْلَ مِثْلُهَا فَقَالُوا أَعَانَ عَلَيْهِ قَوْمٌ كَمُشْفِقِ پس یہ تو ایسا کلمہ ہے کہ پہلے ایسا کہا گیا ہے اور لوگوں نے کہا کہ اس کی دوسروں نے مدد کی ہے۔فَفَكِّرُاَ تَعْلَمُ مُنْشِاً لِى كَتَمْتُهُ فَيَمُلُو الْقَصَائِدَ لِي بِحُجْرِ التَّاً بَقِ پس فکر کر، کیا ایس منشی تجھے معلوم ہے جو میں نے چھپا رکھا ہے پس وہ میرے لئے پوشیدہ بیٹھ کر قصیدہ لکھتا ہے۔اتَنْحِتُ كِذبًا لَيْسَ عِندَكَ شَاهِدٌ عَلَيْهِ وَ تَنْبَحُ كَالْكِلَابِ وَتَزْعَقِ کیا تو ایسا جھوٹ تراشتا ہے کہ اس پر تیرے پاس کوئی گواہ نہیں اور کتوں کی طرح بھونکتا اور فریاد کرتا ہے۔رَضِيْتَ بِحَكَاكَاتِ إِبْلِيسَ شِقْوَةً وَأَثَرُتَ سُبُلَ الْغَيِّ يَا يُّهَا الشَّقِى شیطانی وساوس کے ساتھ تو راضی ہو گیا اور گمراہی کی راہیں اے شقی ! تو نے اختیار کیں۔اَتُنْكِرُ آيَاتِي وَقَدْ شَاهَدُتَّهَا اَتُعْرِضُ عَنْ حَقٌّ مُّبِينٍ مُزَوَّقِ کیا تو دیدہ و دانستہ میرے نشانوں سے اعراض کرتا ہے کیا تو کھلے کھلے اور آراستہ حق سے انکار کرتا ہے۔وَقَدْ مَاتَ اتَمُ عَمُّكَ الْمُتَنَصِّرُ وَقَدْ حَقَّ أَنْ تُمْحَى لِحَاكُمْ وَتُحْلَقِ اور آتھم تیرا چچا نصرانی مر گیا اور واجب ہوا کہ تمہاری داڑھیاں نابود کی جائیں اور منڈائی جائیں۔رَأَيْتُمْ جَوَازِيُكُمْ مِنَ اللَّهِ رَبِّنَا وَمُتُّمُ كَمَوْتِ الْمُفْسِدِ الْمُتَخَلِّقِ لو تم نے خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنی سزائیں دیکھ لیں۔اور تم اس طرح مر گئے جس طرح مفسد دروغ گومرتا ہے۔وَقَدْ قَطَعَ رَبِّى أَنُفَ الْجَمْعِ كُلِّهِمْ وَأَخْرَى الْعِدَا وَ آبَادَ كُلًّا بِمَازِقِ اور میرے خدا نے تمام مخالفوں کی ناک کاٹ دی اور دشمنوں کو رسوا کیا اور سب کو میدان میں ہلاک کر دیا۔