القصائد الاحمدیہ — Page 260
۲۶۰ وَإِنَّكَ قَدْ اَنْزَلْتَ ايْتِ صِدْقِنَا فَوَيْلٌ لِعُمُرِ لَا يَرَاهَا وَيَنْهَقُ اور تو نے ہمارے صدق کے نشان اتارے ہیں۔پس وہ نادان ہلاک شدہ ہے جو ان نشانوں کو نہیں دیکھا اور بے معنی شور کرتا ہے۔الَمْ يَرَ عِجُلًا مَاتَ فِي الْحَيِّ دَامِيًا أَهْذَا مِنَ الرَّحْمَنِ أَوْ فِعْلُ بُنْدُقِى کیا اس گوسالہ کو اس نے نہیں دیکھا جو اپنے قبیلہ میں خون آلود ہو کر مر گیا۔کیا یہ خدا کا فعل ہے یا میری بندوق کا کام ہے۔أَرَى اللَّهُ ايَتَهُ بِتَدْمِيرِ مُفْسِدِ وَتَعْرِفُهَا عَيْنْ رَأَتْ بِالتَّعَمُّقِ خدا نے اپنا نشان ایک مفسد کو ہلاک کر کے دکھلا دیا اور اس نشان کو وہ آنکھ پہچان سکتی ہے جو غور سے دیکھے۔وَمَا كَانَ هَذَا أَوَّلُ الْأي لِلْعِدَا بَل الأيُ قَدْ كَثُرَتْ فَامُعِنُ وَ حَقِّقِ اور یہ دشمنوں کے لئے کوئی پہلا نشان نہیں بلکہ نشان بہت ہیں پس سوچ اور تحقیق کر۔وَلِلَّهِ ايَتٌ لِتَائِيدِ دَعْوَتِي فَانِسُ بِعَيْنِ النَّاظِرِ الْمُتَعَمِّقِ اور میری تائید دعوی میں خدا کے لئے نشان ہیں۔پس اس آنکھ سے دیکھ جو سوچنے والی اور غور کر کے دیکھا کرتی ہے۔ا لَا رُبَّ يَوْمٍ قَدْ بَدَتْ فِيهِ أَيُّنَا وَلَا سِيَّمَا يَوْمٌ عَلَا فِيهِ مَنْطِقِى خبر دار ہو بہت سے ایسے دن ہیں جن میں ہماری نشانیاں ظاہر ہوئیں بالخصوص وہ دن جس دن میری تقریر غالب آئی۔إِذَا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ عَبْدُ كَرِيمِنَا وَكَانَ بِحُسْنِ اللَّحْنِ يَتْلُو وَيَبْعَقِ اور جس وقت مولوی عبدالکریم صاحب کھڑے ہوئے اور حسن آواز سے پڑھتے اور ترجیع کے ساتھ آواز کرتے تھے۔فَكُلٌّ مِنَ الْحُفَّارِ عِنْدَ بَيَانِهِ كَمِثْلِ عُطَاشَى أَهْرَعُوا أَوْ كَاعْشُقِ پس تمام حاضرین اس کے بیان کے وقت پیاسوں کی طرح یا عاشقوں کی طرح دوڑے۔وَقَامُوا بِجَذَبَاتِ النِّشَاطِ كَأَنَّهُمْ تَعَاطَوْا سُلَا فَا مِنْ رَحِيْقِ مُزَهْزِقٍ اور نشاط کے جذبوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے گویا کہ انہوں نے وہ شراب لے لی جو اس شراب کی قسم میں سے تھی جو رقص آور ہو۔وَمَالَتْ خَوَاطِرُهُمُ إِلَيْهِ لَذَاذَةً كَمِثْلٍ جِيَاعِ عِندَ خُبْزِ مُرَقَّقِ اور انکے دل اسکی طرف لذت کے ساتھ ایسے میل کر گئے جیسا کہ بھو کے نرم چپاتیوں کی طرف میل کرتے ہیں۔