القصائد الاحمدیہ — Page 261
۲۶۱ فَأَخْرَجَ حَيْوَاتِ الْعِدَا مِنْ جُحُورِهَا وَاَنْزَلَ عُصْمًا مِنْ جِبَالِ التَّعَرُّقِ پس اس نے دشمنوں کے سانپوں کو انکے سوراخوں سے باہر نکالا اور پہاڑی بکروں کو بخل کے پہاڑوں سے نیچے اتارا۔وَكَانُوا بِهَمُسٍ يَحْمِدُونَ كَأَنَّهُ حَفِيفٌ طُيُورٍ أَوْ صَدَاءُ السَّمَطَّقِ اور وہ نرم آواز سے تعریف کرتے تھے۔گویاوہ پروں کی ہلکی آواز تھی جب جانور صف باندھ کر اڑتے ہیں یازبان کے ساتھ بقیہ غذا کو چاٹنے کی آواز تھی۔حَدَاهُمْ فَلَمْ يَتْرُكْ بِهَا قَلْبَ سَامِعِ وَلَا أُذُنَا إِلا حَدَا مِثْلَ غَيْهَقِ ان کو خوش آوازی سے جلایا اور کسی دل کو نہ چھوڑا اور نہ کسی کان کومگر اونٹ کی طرح اس کو چلایا۔كَأَنَّ قُلُوبَ النَّاسِ عِنْدَ كَلَامِهِ عَلى قَلْبِهِ لُفَّتْ كَنَبْتٍ مُعَلَّقِ گو یا لوگوں کے دل اس کے کلام کے وقت اس کے دل پر لیے گئے جیسا کہ ایک بوٹی درخت پر لپیٹی جاتی ہے۔وَكَانَ كَسِمُطَى لُؤْلُةٍ وَزَبَرْجَدٍ وَكَانَ الْمَعَانِي فِيهِ كَالدُّرَرِ تَبْرُقِ اور موتی اور زبرجد کی دولٹڑیوں کی طرح وہ مضمون تھا اور معانی اس میں موتیوں کی طرح چپکتے تھے۔إِلَيْهِ صَبَتْ رَغَبًا قُلُوْبُ أُولِي النُّهَى إِذَا مَا رَأَوْا دُرَرًا وَسِمْطَ التَّزَيُّقِ عقلمندوں کے دل اسکی طرف رغبت سے جھک گئے جس وقت انہوں نے موتی دیکھے اور زینت کی لڑی دیکھی۔وَمِنْ عَجَبِ قَدْ اَخَذَ كُلٌّ نَصِيبَهُ وَفِي السِّمُطِ كَانَتْ دُرَرُهُ لَمْ تَفَرَّقِ اور تعجب تو یہ ہے کہ ہر ایک نے اپنا حصہ لے لیا حالانکہ رشتہ کے موتی رشتہ میں موجود رہے اور اس سے الگ نہ ہوئے۔إِذَا رُفِعَتْ اَسْتَارُهَا فَكَأَنَّهَا عَذَارَى أَرَيْنَ الْوَجْهَ مِنْ تَحْتِ يُخْنَقِ اور جب ان کے پردے اٹھائے گئے پس گو یاوہ با کرہ عورتیں تھیں جنہوں نے برقع میں سے منہ نکالا۔فَظَلَّ الْعَذَارَى يَنْتَهِبْنَ بِجَلُوَةٍ بَعَاعَ قُلُوبِ الْمُبْصِرِينَ بِمَازَقِ پس ان باکرہ عورتوں نے یہ شروع کیا کہ وہ عارفوں کے دلوں کے مال کو لڑائی میں لوٹتی تھیں۔فَشِبُرٌ مِّنَ الْايُوَان لَمْ يَبْقَ خَالِيًا لِمَا مَلًا الْايُوَانَ عُشَّاقُ مَنْطِقِى پس میدان میں سے ایک بالشت جگہ خالی نہ رہی کیونکہ اس ایوان کو میرے سخن کے عاشقوں نے بھر دیا۔