القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 257

۲۵۷ يَامَنْ دَنَى مِنِّى بِسَيْفِ زُجَاجَةٍ فَاحْذَرُ فَإِنّى فَارِسٌ مُسْتَلْهِمُ اے وہ شخص جو آبگینہ کی تلوار کے ساتھ میرے پاس آیا مجھ سے ڈر کہ میں سوار زرہ پوش ہوں۔يُدْرِيكَ مَنْ شَهِدَ الْوَقَائِعَ اَنَّنِي بَطَلٌ وَفِي صَفٌ الْوَغَى مُتَقَدِّمُ وقائع شناس آدمی تجھے جتلا دے گا میں دلیر ہوں اور جنگ کی صف میں سب سے پہلے۔كَمْ مِنْ قُلُوبِ قَدْ شَقَقْتُ جُذُورَهَا كَمْ مِنْ صُدُورٍ قَدْ كَلَمْتُ وَ ا كُلُمُ بہت سے دلوں کی جڑیں میں نے پھاڑ دیں اور بہت سے سینوں کو میں نے زخمی کر دیا اور کرتا ہوں۔وَإِذَا نَطَقْتُ فَإِنَّ نُطْقِى مُفْحِمٌ سَيْفٌ فَيَقْطَعُ مَنْ يَكِيدُ وَيَجْدِمُ اور جب میں بولوں تو میر انطق منہ بند کر نیوالا ہے۔تلوار ہے پس وہ مکر کر نیوالوں کو کاٹ دیتی ہے۔حَارَبْتُ كُلَّ مُكَذِّبِ وَبِاخِرٍ لِلْحَرْبِ دَائِرَةٌ عَلَيْكَ فَتَعْلَمُ ہرا ایک مکذب سے میں لڑا اور سب سے آخر تیرے پر لڑائی کا چکر آئے گا اور پھر تو جان لیگا۔يَا لَائِمِي إِنَّ الْمَكَارِمَ كُلَّهَا فِي الصِّدْقِ فَاسْلُكُ سُبُلَ صِدْقٍ تَسْلَمُ اے میرے ملامت کر نیوالے ! تمام بزرگیاں صدق میں ہیں۔پس صدق کا طریق اختیار کرتا سلامت رہے۔إِنْ كُنْتَ اَزْمَعْتَ النِّضَالَ فَإِنَّنَا نَأْتِي كَمَا يَأْتِي لِصَيْدٍ ضَيْغَمُ اگر تو نے مقابلہ کا قصد کیا ہے پس ہم اس شیر کی طرح آئیں گے جو شکار کیلئے آتا ہے۔هَلَّا أَرَيْتَ الْعِلْمَ يَا ابْنَ تَصَلُّفِ إِنْ كُنْتَ عَلامًا بِمَا لَا أَعْلَمُ اے لاف کے بیٹے ! تو نے اپنا علم کیوں نہ دکھلایا اگر تو وہ چیزیں جانتا تھا جو مجھے معلوم نہیں۔قَدْ ضَاعَ عُمْرُكَ فِى السَّفَاهَةِ وَالْعَمَا طُوبَى لِمَنْ بَعْدَ السَّفَاهَةِ يَحْلُمُ تیری عمر سفاہت میں اور نابینائی میں ضائع ہوگئی۔مبارک وہ شخص جو سفاہت کے بعد عقلمند ہو جائے۔قَدْ جَاءَ إِنَّ الظَّنَّ إِثْمٌ بَعْضُهُ فَارُفِقُ وَلَا يُضْلِلْ جَنَانَكَ مَاثِمُ قرآن شریف میں آیا ہے کہ بعض ظن گناہ ہیں۔پس نرمی کر اور تیرے دل کو گناہ گمراہ نہ کرے۔