القصائد الاحمدیہ — Page 256
۲۵۶ جَهُدُ الْمُخَالِفِ بَاطِلٌ فِي أَمْرِنَا سَيْفٌ مِنَ الرَّحْمَنِ لَا يَتَكَلَّمُ مخالف کی کوشش ہمارے امر میں باطل ہے یہ خدا کی تلوار ہے جس میں رخنہ نہیں ہوسکتا۔فِي وَجْهِنَا نُورُ الْمُهَيْمِنِ لَائِحٌ إِنْ كَانَ فِيكُمْ نَاظِرٌ مُتَوَسِّمُ ہمارے منہ میں خدا تعالیٰ کا نور واضح ہے اگر کوئی تم میں دیکھنے والا ہو۔الْيَوْمَ يُنْقَضُ كُلُّ خَيْطِ مَكَائِدٍ لِيُنٌ صَحِيلٌ أَوْ شَدِيدٌ مُبْرَمُ آج ہر ایک مکر کا تا گا تو ڑ دیا جائے گا نرم اک تارہ ہو یا سخت دوتارہ ہو۔مَنْ كَانَ صَوَّالًا فَيُقْطَعُ عِرْقُهُ يُرْدِيهِ عَالِيَةُ الْقَنَا أَوْلَهُذَمُ جو شخص حملہ آور ہو پس اسکی رگ کاٹ دی جائیگی اور نیزہ کا اوپر کا سر ایا نیچے کا سرا اسکو ہلاک کر دیگا۔فَاللَّهُ أَثَرَنَا وَكَفَّلَ اَمْرَنَا فَالْقَلْبُ عِنْدَ الفِتَنِ لَا يَتَجَمُجَمُ خدا نے ہمیں چن لیا اور ہمارے کام کا متکفل ہو گیا۔پس دل فتنوں کے وقت متر در نہیں ہوتا۔مَلِكٌ فَلَا يُخْرَى عَزِيزُ جَنَابِهِ إِنَّ المُقَرَّبَ لَا اَبَالَكَ يُكْرَمُ وہ بادشاہ ہے اس کی جناب کا عزیز بھی رسوا نہیں ہوتا اور مقرب ضرور عزت پالیتا ہے۔كَفِّرُ وَمَا التَّكْفِيْرُ مِنْكَ بِدْعَةٍ رَسُمْ تَقَادَمَ عَهْدُهُ الْمُتَقَدِّمُ تو مجھے کا فر کہتارہ اور کافر کہنا کوئی بدعت نہیں۔یہ تو ایک پرانی رسم چلی آتی ہے۔قَدْ كُفِّرَتْ مِنْ قَبْلُ صَحُبُ نَبِيِّنَا قَالُوا لِقَامٌ كَفَرَةٌ وَهُمْ هُمُ اس سے پہلے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کا فر ٹھہرائے گئے اور روافض نے کہا کہ یتیم کافر ہیںاور انکی شان وہی ہے جو ہے۔أنْظُرُ إِلَى الْمُتَشَيِّعِيْنَ وَلَعْنِهِمْ مَاغَادَرُوا نَفْسًا تُعَزُّ وَ تُكْرَمُ شیعوں اور ان کی لعنت کی طرف دیکھ جو کسی ذی عزت کو اُنہوں نے نہیں چھوڑا جَاءَ تُكَ آيَاتِي فَأَنْتَ تُكَذِّبُ شَاهَدتَ رَايَاتِي فَأَنْتَ تَكْتُمُ میرے نشان تیرے پاس آئے اور تو تکذیب کر رہا ہے اور میرے جھنڈوں کو تو نے مشاہدہ کیا اور پھر پوشیدہ رکھتا ہے۔