القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 230 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 230

۲۳۰ نَدْعُوهُ فِي وَقْتِ الْكُرُوبِ تَضَرُّعًا نَرْضَى بِهِ فِي شِدَّةٍ وَّ رَخَاءِ بے قراری کے وقت ہم اسے عاجزی سے پکارتے ہیں اور سختی اور نرمی میں اس پر خوش ہیں۔هَوْجَاءُ الْفَتِهِ أَثَارَتْ جُرَّتِى فَفَدَى جَنَانِى صَوْلَةَ الْهَوْجَاءِ اس کی الفت کے بگولے نے میری خاک اڑا دی۔پس میرا دل اس بگولے پر فدا ہو گیا۔أَعْطَى فَمَا بَقِيَتْ أَمَانِي بَعْدَهُ غَمَرَتْ آيَادِي الْفَيْضِ وَجْهَ رَجَائِي اس نے مجھے اتنا دیا کہ اس کے بعد کوئی آرزو باقی نہ رہی۔اس کے فیض کے احسانات ( کی کثرت) میری امید کی انتہائی بلندی پربھی چھاگئی۔إِنَّا غُمِسُنَا مِنْ عِنَايَةِ رَبِّنَا فِي النُّورِ بَعْدَ تَمَرُّقِ الْأَهْوَاءِ ہوا و ہوس کے پارہ پارہ ہو جانے کے بعد ہم اپنے رب کی عنایت سے نور میں غوطہ زن کئے گئے ہیں۔إِنَّ الْمَحَبَّةَ حُمِّرَتْ فِي مُهْجَتِي وَارَى الْوَدَادَ يَلُوحُ فِي أَهْبَائِي یقیناً محبت میری روح میں خمیر کر دی گئی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ محبت میرے تمام ذرات وجود میں چمک رہی ہے۔إِنِّي شَرِبْتُ كُنُوسَ مَوْتِ لِّلْهُدَى فَوَجَدْتُ بَعْدَ الْمَوْتِ عَيْنَ بَقَاءِ میں نے ہدایت کی خاطر موت کے پیالے پیئے۔پس موت کے بعد میں نے بقا کا چشمہ پالیا۔إِنِّي أُذِبْتُ مِنَ الْوَدَادِ وَنَارِهِ فَاَرَى الْغُرُوبَ تَسِيْلُ مِنْ اهْرَائِي میں محبت اور اس کی آگ سے پگھلایا گیا ہوں اور میں دیکھ رہا ہوں کہ میرے آنسو گداز ہو جانے کی وجہ سے رواں ہیں۔الدَّمْعُ يَجْرِى كَالسُّيُولِ صَبَابَةً وَالْقَلْبُ يُشْوَى مِنْ خَيَالِ لِقَاءِ عشق کی وجہ سے آنسو سیلابوں کی طرح رواں ہیں اور دل ملاقات کے خیال سے پر یاں ہے۔وَارَى الْوَدَادَ أَنَارَ بَاطِنَ بَاطِنِي وَارَى التَّعَشُقَ لَاحَ فِي سِيمَائِي اور میں دیکھتا ہوں کہ محبت نے میرے باطن کی گہرائی کوروشن کر دیا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ عشق میرے چہرے پر نمودار ہے۔الْخَلْقُ يَبْغُونَ اللَّذَاذَةَ فِى الْهَوَى وَوَجَدْتُهَا فِي حُرْقَةٍ وَصَلَاءِ لوگ تو حرص و ہوا میں لذت تلاش کرتے ہیں اور میں نے اسے پایا ہے سوزش اور جلنے میں۔