القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 229

۲۲۹ غَلَبَتْ عَلَى نَفْسِى مَحَبَّةُ وَجْهِهِ حَتَّى رَمَيْتُ النَّفْسَ بِالْإِلْغَاءِ میرے نفس پر اس کی ذات کی محبت غالب ہوئی یہاں تک کہ میں نے نفس کو بریکار کر کے نکال پھینکا۔لَمَّارَ أَيْتُ النَّفْسَ سَدَّتْ مُهْجَتِي الْقَيْتُهَا كَالْمَيِّتِ فِي الْبَيْدَاءِ اور جب میں نے دیکھا کہ نفس میری روح کی راہ میں روک ہے تو میں نے اسے اس طرح پھینک دیا جیسے کہ مردار بیابان میں ( پڑا ہو )۔اللَّهُ كَهفُ الْأَرْضِ وَالْخَضْرَاءِ رَبِّ رَّحِيمٌ مَلْجَأَ الْاشْيَاءِ اللہ ہی پناہ ہے زمین اور آسمان کی۔وہ رت رحیم ہے اور سب چیزوں کی جائے پناہ۔بَرعَطُوْق مَأْمَنُ الْغُرَمَاءِ ذُو رَحْمَةٍ وَّ تَبَرُّعٍ وَعَطَاءِ وہ حسنِ سلوک کرنے والا مہربان، مصیبت زدوں کے لئے جائے امن ہے۔وہ رحمت و احسان اور بخشش والا ہے۔اَحَدٌ قَدِيمٌ قَائِمٌ بِوُجُودِهِ لَمْ يَتَّخِذُ وَلَدًا وَّلَا الشُّرَكَاءِ وہ یگا نہ قدیم اور بغیر سہارے کے بخود قائم دائم ہے۔نہ اس نے کوئی بیٹا بنایا ہے اور نہ ہی ( اپنے ) شریک۔وَلَهُ التَّفَرُّدُ فِي الْمَحَامِدِ كُلِّهَا وَلَهُ عَلَاءٌ فَوْقَ كُلَّ عَلَاءِ اور اسے تمام صفات میں یگانگت حاصل ہے اور اسے ہر بلندی سے بڑھ کر بلندی حاصل ہے۔الْعَاقِلُوْنَ بِعَالَمِينَ يَرَوْنَهُ وَالْعَارِفُوْنَ بِهِ رَأَ وُا أَشْيَاءِ عظمند لوگ تو کائنات کے ذریعہ اسے دیکھتے ہیں اور عارفوں نے اس کے ذریعہ اشیاء کو دیکھا ہے۔هذَا هُوَ الْمَعْبُودُ حَقًّا لِّلْوَرى فَرْدٌ وَحِيدٌ مَّبْدَءُ الأَضْوَاءِ یہی مخلوقات کے لئے معبود برحق ہے وہ ایک یگانہ و یکتا ہے اور سب روشنیوں کا مبدا ہے۔هذَا هُوَ الحِبُّ الَّذِى أَثَرْتُهُ رَبُّ الْوَرَى عَيْنُ الْهُدَى مَوْلَائِى یہی وہ محبوب ہے جسے میں نے (سب پر ) ترجیح دی ہے۔مخلوقات کا رب سر چشمہ ہدایت اور میرا مولا ہے۔هَاجَتْ غَمَامَةُ حُبّهِ فَكَأَنَّهَا رَكْبٌ عَلَى عُسُبُورَةِ الْحَدَوَاءِ اس کی محبت کا بادل اٹھا پس گویا وہ بادل بادشالی کی تیز رو اونٹنی پر سواروں کی طرح ہے۔