القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 227

۲۲۷ ۴۱ أَلَا لَا تَعِبُنِي كَالسَّفِيهِ الْمُشَارِزِ وَإِنْ كُنتَ قَدْ أَزْمَعْتَ حَرْبِي فَبَارِزِ خبر دار! نادان جنگجو کی طرح مجھے عیب نہ لگا اور اگر تو نے مجھ سے جنگ کرنے کا ارادہ کر لیا ہے تو میدان میں نکل۔وَإِنَّكَ تَذْكُرُنِى كَرَجُلٍ مُّحَقِّرٍ وَتَلْمِزُنِي فِي كُلِّ أَن كَمَارِزِ اور بے شک تو میراذ کر ایک حقارت کرنے والے آدمی کی طرح کرتارہتا ہے اور مجھے ہر لفظ عیب جو کی طرح عیب لگا تارہتا ہے۔وَإِنَّا سَمِعْنَا كُلَّ مَا قُلْتَ نَخْوَةٌ أَتَحْسَبُ خَضْرَائِي بِحُمُقِ كَتَارِزِ اور بے شک ہم نے سن لیا ہے جو کچھ تو نے تکبر سے کہا ہے۔کیا تو میرے سبزہ کو حماقت سے خشک چیز کی طرح سمجھتا ہے۔وَمَا كُنتُ صَوَّالًا وَلَكِنْ دَعَوْتَنِي وَقَدْبَانَ أَنَّكَ تَزْدَرِينِي كَغَارِزِ اور میں حملہ کرنانہیں چاہتا تھا لیکن تو نے مجھے دعوت دی اور بے شک ظاہر ہو چکا ہے کہ سوئی چھونے والے کی طرح تو مجھے عیب لگا کر رکھ دیتا ) ہے۔وَلَا خَيْرَ فِي طَغْوَاكَ يَا ابْنَ تَكَبُرٍ وَيَفْقَأُ رَبِّي عَيْنَ دُونِ مُعَارِزِ اے متکبر ! تیرے حد سے تجاوز کرنے میں کوئی بھی بھلائی نہیں اور میر ارب کمینے معاند کی آنکھ پھوڑ دے گا۔فَحَرِّجُ عَلَى نَفْسٍ تُبِيدُكَ وَاجْتَنِبُ مَنَاهِجَ فَقَةٍ فَاجَتَتَكَ كَفَارِزِ پس اپنے نفس کو جو تجھے ہلاک کر دے گا خوب قابوکر اور نابینائی کے راستوں سے گریز کر جو جدا کردینے والے صحرائی راستہ کی طرح اچانک تیرے سامنے آجائیں گے۔وَلَا تَنْتَهِجُ سُبُلَ الْغَوَايَةِ وَاكْتَئِبُ عَلَى مَاعَرَاكَ وَتُبْ بِقَلْبِ ارِزِ اور تو گمراہی کے راستوں پر نہ چل اور غمگین ہو اس مصیبت پر جو تجھے لاحق ہوئی اور مضبوط دل کے ساتھ تو بہ کرے۔انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ا ا صفحه ۲۴۰)