القصائد الاحمدیہ — Page 228
۲۲۸ ۴۲ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ عِلْمِي مِنَ الرَّحْمَنِ ذِي الأَلَاءِ بِاللَّهِ حُزْتُ الْفَضْلَ لَا بِدَهَاءِ میر اعلم خدائے رحمان کی طرف سے ہے جو نعمتوں والا ہے۔میں نے خد کے ذریعہ فضل الہی کو حاصل کیا ہے نہ کہ عقل کے ذریعہ۔كَيْفَ الْوُصُولُ إِلَى مَدَارِجِ شُكْرِهِ نُقْنِي عَلَيْهِ وَلَيْسَ حَوْلُ ثَنَاءِ ہم اس کے شکر کی منزلوں تک کیسے پہنچ سکتے ہیں کہ ہم اس کی شنا کرتے ہیں اور ثنا کی طاقت نہیں۔اللَّهُ مَوْلَانَا وَكَافِلُ اَمْرِنَا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا وَبَعْدَ فَنَاءِ خدا ہمارا مولیٰ ہے اور ہمارے کام کا متکفل ہے اس دنیا میں بھی اور فنا کے بعد بھی۔لَوْلَا عِنَايَتُهُ بِزَمَنِ تَطَلُّبِيْ كَادَتْ تُعَفِّيْنِى سُيُولُ بُكَاءِ اگر میری جستجوئے پیہم کے دور میں اس کی عنایت نہ ہوتی تو قریب تھا کہ آہ وزاری کے سیلاب مجھے نابود کر دیتے۔بُشْرَى لَنَا إِنَّا وَجَدْنَا مُونِسًا رَبَّا رَّحِيمًا كَاشِفَ الْغَمَّاءِ ہمارے لئے خوشخبری ہے کہ ہم نے مونس و غم خوار پا لیا ہے جو رب رحیم ہے اور غم و مصیبت کا دور کر نے والا ہے۔أُعْطِيتُ مِنْ الْفِ مَعَارِفَ لُبَّهَا أُنْزِلْتُ مِنْ حِبِّ بِدَارِضِيَاءِ مجھے محبوب کی طرف سے معارف کا مغز عطا کیا گیا ہے اور میں اپنے محبوب کی طرف سے روشنی کی جگہ میں اتارا گیا ہوں۔نَتْلُو ضِيَاءَ الْحَقِّ عِنْدَوُضُوحِهِ لَسْنَا بِمُبْتَاعَ الدُّجى بِبَرَاءِ ہم حق کی روشنی کی اس کے ظاہر ہوتے ہی پیروی کرتے ہیں۔چاند طلوع ہو جانے کے بعد ہم تاریکی کے خریدار نہیں۔نَفْسِي نَأْتُ عَنْ كُلِّ مَاهُوَ مُظْلِمٌ فَانَخْتُ عِنْدَ مُنَوِّرِى وَجَنَائِي میرانفس ہر تار یک چیز سے دور ہے۔پس میں نے اپنی مضبوط اونٹنی کو اپنے منور کرنے والے کے پاس بٹھا دیا۔