القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 224 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 224

۲۲۴ وَإِنَّ اللَّهَ لَايُخْزِينِ اَبَدًا اَنَا الْبَازِي الْمُوَفَّرُ لَا الْغُدَاقِ اور بے شک اللہ مجھے ہرگز رسوا نہیں کرے گا ( کیونکہ ) میں باعزت باز ہوں نہ کہ سیاہ کو ا۔فَمَا لِلْعَالِمِينَ نَسُوا مَقَامِي قُلُوبٌ فِي صُدُورٍ أَوْ وِحَافٌ علماء کو کیا ہو گیا ہے کہ میرا مقام بھول گئے۔ان کے سینوں میں دل ہیں یا کالے پتھر ؟ وَقَامُوا كَالسِّبَاعِ لِهَتْكِ عِرْضِي وَمَابَقِيَ الْوِفَاقَ وَلَا الْوِلَاقُ وہ میری ہتک عزت کے لئے درندوں کی طرح کھڑے ہوئے اور نہ ان میں موافقت باقی رہی اور نہ ہی اُلفت۔وَلَا يَدْرُونَ مَا حَالِي وَقَالِي فَإِنَّ مَقَامَنَا قَصْرْنِيَاقُ اور وہ میرے حال اور قال کو نہیں جانتے کیونکہ ہمارا مقام ایک بلند محل ہے۔تَرَاهُمْ مُّفْسِدِينَ مُكَذِّبِينَا وَسِيرَتُهُمْ عُنُودٌ وَّانْتِسَاقَ تو ان کو مفسد اور مکڈ ب پاتا ہے اور ان کی سیرت بے راہ ہونا اور نا تمام گفتگو کرنا ہے۔فَمِنْ كُفْرَانِهِمُ ظَهَرَ الْبَلَايَا وَقَحْط ثُمَّ ذَالٌ وَانْجِعَافٌ ان کی ناشکری کی وجہ سے بلائیں اور قحط ظا ہر ہوئے پھرو با اور بیخ کنی۔وَإِنَّ الْمُلْكَ أَجْدَبَ مَعَ وَبَاءٍ وَيُرجى بَعْدَهُ سَبْعٌ عِجَافٌ اور بے شک ملک میں قحط پڑ گیا ہے اور وباء بھی ہے اور اس کے بعد سات سالہ قحط کا اندیشہ ہے۔إِذَا مَـاجَـاءَ أَمْرُ اللَّهِ مَقْتًا فَلَا أَعْنَابَ فِيْهِ وَلَا السُّلَاقُ جب خدا کا حکم (اس کی) ناراضگی کی وجہ سے آئے گا تو نہ ملک میں انگور رہیں گے اور نہ شیرہ انگور۔وَهَذَا كُلَّهُ مِنْ سُوْءِ عَمَلٍ وَبِرِّضَيَّعُوْهُ وَمَا تَلَافُوْا اور یہ سب بدعملی اور اس بات کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے نیکی کو ضائع کر دیا اور تلافی نہ کی۔فَتُوْبُوْا اَيُّهَا الْغَالُوْنَ تُوْبُوا وَاَرْضُوا رَبَّكُمْ تَوْبَا وَّ صَافُوا پس اے غلو کرنے والو! تو بہ کرو تو بہ کرو اور تو بہ سے خدا کو راضی کرو اور مخلص بن جاؤ۔