القصائد الاحمدیہ — Page 223
۲۲۳ ۳۹ بوَحْشِ الْبَرِّ يُرجَى الْإِثْتِلَافُ وَكَيْفَ الْاِنْتِلَافُ بِمَنْ يَّعَافُ جنگل کے جانوروں سے دوستی کی امید کی جاسکتی ہے۔اور اُس سے کیونکر دوستی ہو سکے جو کراہت رکھتا ہے۔قَرَيْنَا الْمُعْرِضِيْنَ بِطَيِّبَاتٍ فَرَدُّوا مَاقَرَيْنَاهُمْ وَعَافُوا ہم نے اعراض کرنے والوں کی طیب چیزوں سے ضیافت کی۔سو انہوں نے ہماری ضیافت کو رد کر دیا اور کراہت کی۔بِحُمْقٍ يَحْسَبُونَ الدَّرَّ ضَرًّا وَأَجْيَاقُ الْفَسَادِ لَهُمْ جُوَافُ حماقت سے وہ دودھ کو ضرررساں خیال کرتے ہیں اور فساد کے مردار ان کے نزدیک مچھلی ہیں۔فَمَا اَرْدَى الْعِدَا إِلا إِبَاءُ وَظَنُّ السَّوءِ فِينَا وَاعْتِسَاقُ سوائے انکار اور ہم سے بدظنی اور ظلم کے دشمنوں کو کسی چیز نے ہلاک نہیں کیا۔كِلَابُ الْحَيِّ قَدْ نَبَحُوا عَلَيْنَا وَلَا يَدْرُونَ حِقْدًا مَّا الْعَفَاقُ قبیلے کے کتے ہم پر بھونکے اور وہ کینے کی وجہ سے نہیں جانتے کہ پر ہیز گاری کیا چیز ہے۔وَقَدْ صِرْنَا حُدَيَّا النَّاسِ طُرًّا وَبُرْهَانِي لِمُرَانِي ثِقَافٌ ہم بطریق مقابلہ ومعارضہ تمام لوگوں کے لئے آمادہ ہو گئے اور میری دلیل میرے نیزوں کے لئے سیدھا کرنے کا آلہ بن گئی۔اَرَى ذُلَّا بِسُبُلِ الْحَقِّ عِرًّا وَوَهُدِى فِي رِضَا الْمَوْلَى شِعَافٌ میں ذلت کو خدا تعالیٰ کی راہ میں عزت خیال کرتا ہوں اور مولیٰ کی رضا میں میری پست زمین پہاڑ کی چوٹیوں ( کی طرح) ہے۔