القصائد الاحمدیہ — Page 225
۲۲۵ وَخَاف الله أَهْلُ الْعِلْمِ لَكِنْ غَوِيٌّ فِي الْبَطَالَةِ لَا يَخَافُ اہل علم خدا سے ڈرتے ہیں لیکن شہر بٹالہ میں ایک گمراہ ہے جو نہیں ڈرتا۔لَهُ شِيَمٌ كَانَّ الْبِيْشَ فِيهَا وَمَعَهَا عُجْبُهُ سَمٌ زُعَافٌ اس کی ایسی خصلتیں ہیں گویا اس میں میٹھے تیلیے پیش ) کا زہر ہے اور اس کے ساتھ ہی اس کی خود پسندی ایک زہر قاتل ہے۔لَهُ عِنْدَ اللَّبَانَةِ كُلُّ مَيْلٍ وَتَلْبِيَةٌ بِطَوُعِ وَالطَّوَافُ حاجت کے وقت تو اس میں پورا میلان ہے اور رضامندی سے لبیک کہنا اور طواف کرنا بھی۔وَلَمَّا حَازَ مَطْلَبَهُ وَاقْنَى فَبَارَى كَالْعِدَا وَ بَدَ الْخِلَاقُ جب اس نے اپنا مطلب نکال لیا اور اسے حاصل کر لیا تو دشمن کی طرح مقابلہ پر آ گیا اور مخالفت ظاہر ہوگئی۔عَلَى الْإِسْلَامِ هَذَا الرَّجُلُ رُزُءٌ وَمَقْصَدُهُ فَسَادٌ وَّازْدِهَا شخص اسلام پر ایک مصیبت بنا ہوا ہے اور اس کا مقصد فساد اور جھوٹ بولنا ہے۔انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحه ۲۲۹ تا ۲۳۱)