القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 219 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 219

۲۱۹ وَقَدْ هَابَ الْمَنَايَا ثُمَّ أَنْسى زَمَانَ الْمَوْتِ مِنْ زَهُوِ الضَّلَالِ اور وہ موتوں سے ڈرا پھر اس نے بھلا دیا موت کے وقت کو گمراہی سے پیدا ہونے والے تکبر کی وجہ سے۔فَفَكَّرْ كَيْفَ أَدْرَكَهُ الْمَنِيَّهِ مُقَدَّرَةً لَّهُ بَعْدَ الْخَبَال پس تو سوچ کہ موت نے اسے کس طرح آلیا جو اس کے لئے اس کی عقل کی خرابی کے بعد مقد رتھی۔تَوَفَّاهُ الْمُهَيْمِنُ عِنْدَ خُبْثٍ وَاصْرَارٍ عَلَى سُبُلِ الْوَبَالِ خدائے مھیمن نے اس کو خباثت کے اظہار ) اور وبال کی راہوں پر مُصر ہونے پر وفات دیدی۔فَاَيْنَ الْيَوْمَ أتَـمُ يَاعَدُوّى اَلَمْ يَرْحَلُ إِلَى دَارِ النَّكَالِ اے میرے دشمن ! آج آتھم کہاں ہے؟ کیا وہ عبرتناک سزا کے گھر کی طرف کوچ نہیں کر گیا ؟ اَلَمْ يَثْبُتُ بِفَضْلِ اللَّهِ صِدْقِی اَلَمْ يَظْهَرُ جَزَاءُ الْإِفْتِعَالِ کیا اللہ کے فضل سے میرا صدق ظاہر نہیں ہو گیا؟ کیا بہتان باندھنے اور جھوٹ بولنے کی سزا ظا ہر نہیں ہوگئی۔وَمَا نَجَّاهُ عِيسَى وَالصَّلِيْبُ وَلَمْ يَعْصِمُهُ أَحَدٌ مِّنْ عِبَالِ اور نہ اسے عیسی نے نجات دی ہے اور نہ صلیب نے اور نہ اس کو کنبے میں سے کسی نے بچایا ہے۔تَجَلَّتْ ايَةُ الرَّبِّ الْعَظِيمِ فَاَيْنَ الطَّاعِنُونِ مِنَ الدَّلالِ خدائے بزرگ کا نشان خوب ظاہر ہو گیا۔پس وہ کہاں ہیں جو ناز سے طعنہ دیتے ہیں؟ وَاَيْنَ اللَّاعِنُونَ بِصَدْرِ نَادٍ وَاَيْنَ الصَّاحِكُونَ مِنَ الْحَوَالِي اور بھری مجلس میں ملامت کرنے والے کہاں ہیں اور (اس کے ) حاشیہ نشینوں میں سے بننے والے کہاں ہیں؟ وَأَيْنَ السَّاخِرُونَ مِنَ الْآدَانِي وَمِنْ أَهْلِ الْمَطَابِعِ كَالرِّئَال اور کہاں ہیں تمسخر کر نیوالے کمینے لوگوں میں سے؟ کہاں ہیں چھا پہ خانوں والے جو شتر مرغ کے بچوں کی طرح تیز رفتار تھے۔فُؤَادِي قَدْ تَاذَى مِنْ آذَاهُمْ وَقَلْبِي دُقَ مِنْ قِيلٍ وَقَالِ میرے دل نے ان کے ایذا اسے دکھ اٹھایا ہے اور میرا دل ان کی قیل وقال سے تو ڑ دیا گیا ہے۔