القصائد الاحمدیہ — Page 220
۲۲۰ اَطَالُوا الْسُنَ التَّلْمِيمِ ظُلْمًا فَأَمْرِرُنَا كَامْرَارِ الْجِبَالِ انہوں نے از راہ ظلم مذمت کی زبانوں کو دراز کیا ہے۔سو ہم رسیوں کو بل دینے کی طرح بل دیئے گئے ہیں وَقَالُوا كَاذِبٌ يُؤْذِي الْأَنَاسًا وَيَعْلَمُ مَنْ يَّرَانِي سِرَّ حَالِى اور انہوں نے کہا کہ جھوٹا ہے جولوگوں کو ایذا دیتا ہے۔حالانکہ مجھے دیکھنے والا خدا میرے حال کے راز سے خوب واقف ہے۔وَمَلَأُوَا كُلَّ قِرْطَاسِ بِذَمِّى فَأَصْبَـحْـنَـا كَمَجُرُوحِ الْقِتَالِ اور انہوں نے ہر کاغذ کو میری بدگوئی سے بھر دیا ہے پس ہم جنگ کے زخمی کی طرح ہو گئے۔وَمَا خَافُوْا عِقَابَ اللَّهِ رَبِّي إِذَا مَا جَاوَزُ وُا سُبُلَ اعْتِدَالِ اور وہ میرے رب اللہ کی سزا سے نہیں ڈرے جب کہ انہوں نے اعتدال کی راہ سے تجاوز اختیار کر لیا۔فَسَلُ هُم أَيْنَ اتَمُ فِي النَّصَارَى أَرُونِي فِي الْجُمُوعِ أَوِ الْعِيَالِ پس ان سے پوچھ کہ عیسائیوں میں آتھم کہاں ہے؟ مجھے (وہ) مجمعوں میں یا (اس کے ) کنبے میں دکھاؤ۔أَمَا مَاتَ الَّذِى زَعَمُوهُ حَيًّا اَمَا دُفِنَ المُكَذِّبُ فِي الدِّحَالِ آیا وہ مر نہیں گیا جس کو انہوں نے زندہ خیال کیا تھا ؟ کیا مکذب گڑھے میں دفن نہیں کر دیا گیا ؟ أَمَا شَاهَتْ وُجُوهُ الْمُنْكِرِينَا فَقُوْمُوا وَاشْهَدُوا لِلَّهِ لَا لِي کیا منکروں کے چہرے سیاہ نہیں ہوگئے ؟ تم اٹھو اور خدا کے لئے گواہی دونہ کہ میرے لئے۔وَلَمْ يَقْتُلُهُ مِنْ أَمْرِى قُبُونٌ وَلَكِن جَدَّهُ حِبِّ قَلَا لِى اسے کسی گروہ نے میرے حکم سے قتل نہیں کیا۔لیکن اس کی بیخ کنی کر دی ہے (میرے) محبوب نے جو میری خاطر اس کا دشمن ہوا۔بَدَتْ ايَاتُ رَبِّي مِثْلَ شَمْسِ فَمَا بَقِيَ الظَّلَامُ وَلَا اللَّيَالِي میرے رب کے نشانات سورج کی طرح ظاہر ہو گئے ہیں پس نہ تاریکی باقی رہی ہے نہ ہی راتیں۔سِهَامُ الْمَوْتِ مَاطَاشَتْ بِمَكْرٍ وَإِنَّ اللَّـهَ يُخْزِى كُلَّ غَالِـي موت کے تیر کسی حیلے سے خطا نہیں گئے۔اور خدا ہر غلو کرنے والے کو رسوا کیا کرتا ہے۔