القصائد الاحمدیہ — Page 166
۱۶۶ لَا تَعْرِفُوْنَ نِكَاتَ صُحُفِ الهِنَا تَتْلُونَ الْفَاظًا بِغَيْرِ مَعَانِي تم ہمارے خدا کے صحیفوں میں جو معارف ہیں ان کو پہچانتے نہیں اور الفاظ کو بغیر معانی کے پڑھتے ہو۔قَدْ جِئْتُكُمْ مِثْلَ ابْنِ مَرْيَمَ غُرُبَةً حَقٌّ وَ رَبِّي يَسْمَعَنُ وَيَرَانِي میں ابن مریم کی طرح غریب ہو کر تمہارے پاس آیا ہوں یہ حق ہے اور میرا رب سنتا ہے اور دیکھ رہا ہے۔السَّيْفُ أَنْفَاسِي وَرُمُحِي كَلِمَتِى مَا جِئْتُكُمْ كَمُحَارِبِ بِسِنَانِ میری انفاس میری تلوار ہیں اور میرے کلمات میرے نیزے ہیں اور میں جنگجو کی طرح نیزہ کے ساتھ نہیں آیا۔حَقٌّ فَلَا يَسَعُ الْوَرى إِنْكَارُهُ فَاتُرُكَ مِرَاءَ الْجَهْلِ وَالْكُفْرَان یہی سچ ہے پس انکار پیش نہیں جاسکتا سو جہالت اور ناسپاسی کی لڑائی کو چھوڑ دے۔يَا طَالِبَ الرَّحْمَنِ ذِي الْإِحْسَانِ قُمْ وَالِهَا وَاطْلُبُهُ كَالظَّمُان اے خدائے ذوالاحسان کے طلب کرنے والے ! شیفتہ کی طرح اٹھ اور پیاسے کی طرح اس کو ڈھونڈ۔بَادِرُ إِلَيَّ سَأُخْبِرَنَّكَ مُشْفِقًا عَنْ ذلِكَ الْوَجْهِ الَّذِي أَصْبَانِي میری طرف دوڑ کہ میں تجھے شفقت کی راہ سے خبر دوں گا اس منہ سے جس نے مجھے اپنی طرف کھینچا۔أَحْرِقْ قَرَاطِيْسَ الْبَغَاوَةِ وَالإِبَا وَارْكَنُ إِلَى الْإِيْقَانِ وَالْإِذْعَانِ بغاوت اور سرکشی کے کاغذات جلادے اور یقین کی طرف جھک جا۔أُعْطِيتُ نُورًا مِّنْ ذُكَاءِ مُهَيْمِنِى لِأنيرَ وَجْهَ الْبَرِّ وَ الْعُمْرَانِ مجھے اپنے خدا کے آفتاب سے ایک نور ملا ہے تا کہ میں جنگلوں اور آبادیوں کو روشن کروں۔بَارَزْتُ لِلّهِ الْمُهَيْمِن غَيْرَةً اَدْعُوعَدُوَّ الدِّينِ فِي الْمَيْدَانِ میں اللہ تعالیٰ کے لئے غیرت کی راہ سے میدان میں نکلا ہوں اور دشمن دین کو میدان میں بلاتا ہوں۔وَاللَّهِ اِنّى اَوَّلُ الشُّجُعَانِ وَسَتَعُرِفَنَّ إِذَا الْتَقَى الْجَمْعَانِ اور بخدا میں سب بہادروں سے پہلے ہوں اور عنقریب تجھے معلوم ہو گا جب دونوں لشکر ملیں گے۔