القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 164

۱۶۴ مَا كَانَ قَطُّ وَلَا يَكُونُ كَمِثْلِهِ شَهُرٌ بِهَذَا الْوَصْفِ فِي الْأَزْمَانِ اس مہینے کی طرح نہ ہوا اور نہ کبھی ہو گا۔اس صفت کا مہینہ کسی زمانہ میں نہیں پایا جاتا۔شَهِدَتْ يَدُ الْمَوْلى فَهَلْ مِنْكُمْ فَتًى يُبْدِى الْمَحَبَّةَ بَعْدَ مَا عَادَانِي خدا تعالیٰ کے ہاتھ نے گواہی دے دی پس کیا کوئی مرد ہے جو عداوت کے بعد محبت کو ظاہر کرے؟ وَأَرَادَ رَبِّي أَنْ يُرِى آيَاتِهِ وَيُمَزِّقُ الدَّجَّالَ ذَا الْهَذَيَانِ اور میرے رب نے ارادہ فرمایا ہے جو اپنے نشانوں کو ظاہر کرے اور دقبال فضول گو کوٹکڑے ٹکڑے کر دے۔إِنِّي أَرى كَالْمَيِّتِ مَنْ أَذَانِى لَا تَسْمَعَنُ أَصْوَاتَهُ اذَانِـي جس نے مجھے دکھ دیا میں اس کو مردے کی طرح دیکھ رہا ہوں اور میرے کان اس کی آواز نہیں سنتے۔هذَا زَمَانٌ قَدْ سَمِعْتُمْ ذِكْرَهُ مِنْ خَيْرِ خَلْقِ اللَّهِ وَالْقُرانِ یہ وہ زمانہ ہے جس کا تم ذکر سن چکے ہو۔کس سے؟ رسول اللہ ﷺ سے اور قرآن سے۔مَنْ فَاتَهُ هذَا الزَّمَانُ فَقَدْ هَوى وَاخْتَارَ جَهْلًا وَّادِيَ الْخِذَلَان جس کا یہ زمانہ فوت ہو گیا پس وہ نیچے گرا اور اپنی جہالت سے وادی خذلان کو اس نے پسند کر لیا۔كُم مِّنْ عَدُوٌّ يَشْتِمُونَ تَعَصُّبًا وَيَرَوْنَ آيَاتِي وَنُورَ بَيَانِي بہت ایسے دشمن ہیں کہ محض تعصب سے گالیاں نکالتے ہیں اور میرے نشان اور میرے بیان کا نور د یکھتے ہیں۔وَخَيَالُهُمْ يَطْفُو كَحُوتٍ مَيِّتٍ لَا يَنظُرُونَ مَوَاقِعَ الْإِمْعَانِ اور ان کا خیال مردہ مچھلی کی طرح تیرتا ہے غور کے موقعوں کو وہ نہیں دیکھتے۔شَهِدَتْ لَهُمْ شَمْسُ السَّمَاءِ وَمِثْلُهَا قَمَرٌ فَيَرْتَابُونَ بَعْدَ عِيَان ان کے لئے آسمان کے سورج نے گواہی دی اور ایسا ہی چاند نے پس بعد مشاہدے کے شک کرتے ہیں۔خَرَجُوا مِنَ التَّقْوَى وَتَرَكُوا طُرُقَهُ بِوَسَاوِسِ دَخَلَتْ مِنَ الشَّيْطَانِ تقویٰ سے خارج ہو گئے اور تقویٰ کی راہ چھوڑ دی باعث ان وسوسوں کے جو شیطان کی طرف سے اس میں داخل ہوئے۔