القصائد الاحمدیہ — Page 159
۱۵۹ ۲۳ قَضَى بَيْنَنَا الْمَوْلَى فَلَا تَعْصِ قَاضِيَا وَاطْفِئْ لَظَى الطَّغْوَى وَفَارِقَ حَاضِيَا خدا تعالیٰ نے ہم میں فیصلہ کر دیا۔پس فیصلہ کرنے والے کی نافرمانی مت کر اور زیادتی کے شعلہ کو بجھا اور جولڑائی کی آگ بھڑ کانے والا ہو اس سے جدا ہوجا۔وَ وَدْعُ وُجُودَ الظَّالِمِينَ وَجُودَهُمْ وَلَا تَذْكُرَنْ يُسْرًا وَّ عُسُرًا مَّاضِيَا اور ظالموں کے وجود اور ان کی بخشش کو رخصت کر دے یعنی چھوڑ دے اور گزشتہ تنگی فراخی کو یادمت کر۔وَغَادِرُ ذَرَا أَهْلِ الْهَوَا وَرِضَاءَ هُمُ وَبَادِرُ إِلَى الرَّحْمَنِ وَاطْلُبُ تَرَاضِيَا اور اہل ہوا کی پناہ اور رضامندی کو چھوڑ دے اور رحمان کی طرف جلد قدم اٹھا اور کوشش کر کہ وہ تجھ سے راضی ہوا ور تو اس سے راضی۔وَلَا تَشْظَيَنُ مِثْلَ الشَّـذَا أَوْصَالِحٍ وَكُنْ فِي شَوَارِعِهِ ضَلِيعًا نَاضِيَا اور چلنے سےمت عاری ہوجس کے کی کمی اوروہ گھوڑ جو پی میں انگرکھا ہے اور دا تالے کی راہوں میں ایک مضبوط گوڑا اوراس سے آگے نکلنے والا ہو۔وَإِنْ لَّعَنَكَ السُّفَهَاءُ مِنْ طَلَبِ الْهُدَى فَكُنْ فِي مَرَاضِي اللَّهِ بِاللَّعْنِ رَاضِيَا اور اگر سفیہ لوگ بوجہ طلب ہدایت تیرے پر لعنت کریں۔سوخدا تعالیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے لعنت پر راضی ہو جا۔(نور الحق جلد ثانی۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۱۲ - ۲۱۳)