القصائد الاحمدیہ — Page 160
17۔۲۴ القصيدة بُشْرَى لَكُمْ يَا مَعْشَرَ الْإِخْوَانِ طُوبَى لَكُمْ يَا مَجْمَعَ الْخُلَّانِ تمہیں اے جماعت برادران ! بشارت ہو تمہیں اے جماعت دوستان !مبارک ہو۔ظَهَرَتْ بُرُوقَ عِنَايَةِ الْحَنَّان وَبَدَا الصِّرَاطُ لِمَنْ لَهُ الْعَيْنَانِ خدا تعالیٰ کی عنایت کی چمک ظاہر ہوگئی اور جو شخص دو آنکھیں رکھتا ہے اس کے لئے راہ کھل گیا۔ـيِّرَانِ بِهَذِهِ الْبُلْدَانِ خُسِفَا بِإِذْنِ اللَّهِ فِي رَمَضَان سورج اور چاند کو ان ملکوں میں باذن اللہ رمضان میں گرہن لگ گیا۔وَبِشَارَةٌ مِنْ سَيِّدِ خَيْرِ الْوَرى ظَهَرَتْ مُطَهَّرَةً مِّنَ الْادْرَانِ اور ایک بشارت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسے پاک طور پر ظاہر ہوگئی کہ کوئی میل اس کے ساتھ نہیں۔وَلَهَا كَصَاعِقَةِ السَّمَاءِ مَهَابَةٌ وَتَشَنُّرٌ كَتَشَذَّرِ الْفُرْسَانِ اور ان میں صاعقہ کی طرح ایک ہیبت ہے اور سواروں کی طرح ایک رعب ناک گردن کشی ہے۔الْيَومَ يَوْمٌ فِيهِ حَصْحَصَ صِدَقْنَا قَدْ مَاتَ كُلُّ مُكَذِّبِ فَتَانِ آج وہ دن ہے جس میں ہمارا صدق ظاہر ہو گیا اور ہر یک مکذب فتنہ انگیز مر گیا۔