القصائد الاحمدیہ — Page 155
۱۵۵ فَتَجَافَ عَنْ أَيَّامٍ فَيُجِ أَعْوَجِ حِجَجٌ خَلَوْنَ تَغَافُلًا وَّ تَمَرُّدَا پس ٹیڑھے گروہ کے زمانہ سے الگ ہو۔وہ برس ایسے ہیں جو تغافل اور سرکشی میں گذر گئے۔كَانَتْ شَرِيعَتُنَا كَزَرْعٍ مُّعْجِبِ فِيهَا تَعَرَّتْ مِثْلَ أَزْعَرَ أَرْبَدَا ہماری شریعت ایک تعجب انگیز بھیتی تھی۔مگر ان برسوں میں ایسی برہنگی اس کی ظاہر ہوئی جیسے وہ جانور جس پر بال نہ ہوں اور خا کی رنگ ہو۔الْعَيْنُ بَاكِيَةٌ عَلَى أَطْلَالِهَا يَارَبِّ فَاعْمُرُ خَرْبَهَا مُتَوَحِدَا آنکھ اس کی آثار عمارت پر رورہی ہے۔اے میرے رب ! اب تو ہی اس کے ویرانہ کو پھر آباد کر۔(نور الحق جلد ثانی۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۱۹۱ تا ۱۹۳)