القصائد الاحمدیہ — Page 154
۱۵۴ كُنَّا نَرَى أَسَفًا تَأَجُلَ يَهْمِكُمْ فَالْيَوْمَ صَبُّ الْمُفْسِدِينَ تَبَدَّدَا ہم افسوس سے تمہارے بزغالوں کی جماعتوں کو دیکھا کرتے تھے۔پس آج مفسدوں کی صفیں متفرق ہو گئیں۔وَقَدِ اسْتَبَاحَ الْغُولُ جَوْهَرَ عَقْلِهِ حَتَّى انْثَنَى مِنْ أَمِرِهِ مُتَرَدِّدَا اور ایک دیوانے نے اپنے جو ہر عقل کا استیصال کر لیا۔یہاں تک کہ وہ اپنے مطلوب کے بارے میں تر قد میں پڑ گیا۔إِنَّ السَّعِيدَ يَجِيءُ مُلْتَقِطَ النُّهَى وَلَقِيطَةُ الشَّيْطَانِ يُزْرِى مُلْحِـدَا سعید آدمی عقل حاصل کرنے کے لئے آتا ہے۔اور شیطان کا پروردہ ملحدانہ طور پر عیب جوئی کرتارہتا ہے۔إِنَّاسَلَخُنَا شَهْرَ رَمَضَانَ الَّذِي فِيهِ الْخُسُوفِ مَعَ الْكُسُوفِ تَفَرَّدَا ہم اس رمضان کے اخیر تک پہنچ گئے۔جس کا خسوف اور کسوف بے مثل ہے۔الْقَمَرُ سَارِيَةٌ وَّمِثْلُ عَشِيَّةٍ وَالشَّمْسُ عَادٍ مُدْحِنٌ قَطَرُ النَّدَا رمضان کا چاند اس بادل کی طرح ہے جو سر شام آتا ہےاور نیز رات کے بادل کی طرح۔اور سورج اس بادل کی طرح ہے جو صبح آتا ہے اور محیط ہوتا ہے۔جو بخش کا بادل ہے۔هذَا ذَا مِنَ اللهِ الْمُهَيْمِنِ ايَّةٌ لِيُبِيدَ مَنْ تَرَكَ الْهُدَى مُتَعَمِّدًا یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نشان ہے۔تا کہ اس کو ہلاک کرے جو عمدا ہدایت کو چھوڑتا ہے۔فَاسْعَوْا زَرَافَاتٍ وَّ وُحْدَانًا لَّهُ مُتَنَدِّمِينَ وَ بَادِرِينَ إِلَى الْهُدَى پس ٹولے ٹولے اور کیلے اکیلے اس کی طرف دوڑو۔اور چاہیئے کہ تمہارا دوڑ نا شرمندگی کی حالت میں ہو اور ہدایت کی طرف جلدی قدم اٹھے۔ظَهَرَتْ خَطَايَاكُمْ وَ حَصْحَصَ صِدْقُنَا فَابْكُوا كَشَكُلِّي فِي الزَّوَايَا سُجَّدًا تمہاری خطا ظا ہر ہوگئی اور ہمارا پیچ کھل گیا۔پس اس عورت کی طرح، جس کا لڑکا مرجاتا ہے گوشوں میں سجدہ کرتے ہوئے آہ ونالہ کرو۔صَارَتْ دِيَارُ الْهِنْدِ اَرْضَ ظُهُورِهَا لِيُسَكِّتَ الرَّحْمَنُ غُوْلًا مُّفَنِدَا ہند کی زمین اس نشان کے ظاہر ہونے کا مقام قرار پائی۔تا کہ خدا تعالی در ونگو کو ملزم کرے فَأَذِبَّةُ الأَوْهَامِ قُصَّ جَنَاحُهَا رُحُمًا عَلَى قَوْمٍ أَطَاعُوا أَحْمَدَا پس وہموں کی مکھیوں کے پر کاٹ دیئے گئے۔اس قوم پر رحم کر کے جنہوں نے نبی صلعم کی فرمانبرداری اختیار کی۔