القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 127

۱۲۷ وَلَا تَعْجَبُ لِقَوْلِى وَادِعَائِي وَقَدْ عُلِّمُتُ مِنْ أَخْفَى الْمَعَانِي اور میرے قول اور میرے دعویٰ سے تعجب مت کر اور مجھے بہت پوشیدہ معنے بتلائے گئے ہیں۔وَلِلرَّحْمنِ فِي كَلِمٍ رُمُوزُ وَكَمْ قَوْلٍ أَسَرَّ كَمِثْلِ كَانِـي اور خدا تعالیٰ اپنے کلمات میں کئی بھید رکھتا ہے اور کئی قول اس کے ایسے ہیں جیسے کوئی اشارہ کنایہ سے باتیں کرتا ہے۔وَ كَمْ كَلِمٍ مُّهَفْهَفَةٌ دِقَاقَ هَضِيمَ الْكَشْحَ كَالْعِيدِ الْحِسَانِ اور بہت سے کلمے نازک اور باریک ہیں بہت نازک جیسے نازک اندام اور خوبصورت عورتیں ہوتی ہیں۔فَيَدْرِى الصَّامِرَاتِ ذَوُوالصُّمُورِ وَلَا يَدْرِى سَفِيةٌ كَالسِّمَانِ پس بار یک باتوں کو وہ لوگ سمجھتے ہیں جو مرتاض اور دقیق الفکر ہیں اوران باتوں کو ہ شخص نہیں جانتا جو موٹی عقل والا موٹی عورتوں کی طرح ہو۔فَانُ تَبْغِي الدَّقَائِقَ مِثْلَ إِبْرٍ فَلِجُ فِي سَمِهَا وَ دَعِ الْأَمَانِي پس اگر تو ایسے بار یک حقائق چاہتا ہے جیسے سوئیاں۔سوتو سوئی کے نا کہ میں داخل ہوجا اور تمام نفسانی جذ بات چھوڑ دے۔وَ اِنْ تَسْتَطْلِعَنْ أَنْبَاءَ مَوْتَى فَمُتْ كَالْمُحْرَقِيْنَ وَكُنْ كَفَانِي اور اگر تو چاہتا ہے کہ مردوں کی خبریں تجھے معلوم ہوں۔سو تو اُن مُردوں کی طرح مر جا جو جلائے گئے اور نابود ہو گئے۔وَ بَدلُ الْجُهَدِ قَانُونٌ قَدِيمٌ مَنى لِلطَّالِبِينَ قَضَاءُ مَانِي اور کوشش کرنا قانونِ قدیم ہے جو مقدر حقیقی نے ڈھونڈھنے والوں کے لئے بنایا ہے۔وَإِنِّي مُسْلِمٌ وَ السّلْمُ دِينِى فَلَا تُكْفِرُ وَ خَفْ رَبَّ الزَّمَانِ اور میں مسلمان ہوں اور اسلام میرا دین ہے۔سوتو کا فرمت ٹھہرا اور خدا تعالیٰ سے خوف کر۔وَ إِنْ أَزْمَعْتَ تَكْفِيرِى وَعَذَلِى فَقُلْ مَا شِئْتَ مِنْ شَوْقِ الْجَنَانِ اور اگر تو نے یہی قصد کیا ہے کہ مجھے کافر کہے اور ملامت کرے سو جو تیری مرضی ہو وہ شوق سے کہتا رہ۔وَلَا نَخْشَى سِهَامَ اللَّاعِنِينَا وَلَا نَغْتَاطُ مِنْ تَكْفِيرِ خَانِي اور ہم لعنت کرنے والوں کے تیروں سے نہیں ڈرتے اور ایک بے ہودہ گو کی تکفیر سے ہم غصہ نہیں کرتے۔