القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 126

۱۲۶ كَخُذْرُوفٍ نُدَخرِجُ رَأْسَ عَجْزِ وَتُبْنَا مِنْ مَّلَاعِبِ صَوْلَجَانِ اور ہم پھر کی کی طرح اپنے عاجزانہ سر کو گردش دے رہے ہیں اور صولجان کی بازی گاہ سے ہم دست بردار ہیں۔عَرِيفٌ فَرْسُ نَفْسِي عِنْدَ حَرْبٍ وَيَدْرِى السِّرَّ مِنْ شَدِ الْبِطَانِ میرے نفس کا گھوڑالڑائی کے وقت بڑی فراست رکھتا ہے اور تن کو مضبوط کھینچنے سے سمجھ جاتا ہے کہ مطلب کیا ہے۔رِّ يَنْزِلَنَّ كَمِثْلِ بَرْقٍ وَلَا تَمْضِي عَلَيْهِ دَقِيقَتَانِ بڑا حملہ آور ہے جو برق کی طرح اترتا ہے اور دومنٹ کا بھی توقف نہیں کرتا۔وَإِنَّا سَوْفَ نُوْجَرُ مِنْ مَّلِيْكِ وَنُعْطى مِنْهُ أَجْرَ الْاِمْتِشَان اور ہم عنقریب اپنے بادشاہ سے پاداش پائیں گے اور اس سپاہیا نہ خدمت کا اجر ہم کو دیا جائے گا۔وَكَأْسٍ قَدْ شَرِبْنَا فِي وِهَادٍ وَأُخْرَى نَشْرَبَـنُ فَوْقَ الْقِنَـانِ کئی پیالے تو ہم نے نشیب میں پیئے اور کئی اور ہیں جو پہاڑوں کی چوٹیوں پر پئیں گے۔وَهَذَا كُلُّهُ مِنْ فَضْلِ رَبِّي مَلَاذِى عَاصِمِي مِمَّنْ جَفَانِي اور یہ سب میرے رب کا فضل ہے جو میری پناہ ہے اور ظالم سے مجھے بچانے والا ہے۔أَرى أَشْجَارَ رَحْمَتِهِ عِظَامًا مُفَرِحَةٌ كَزَرْعِ الْزَعْفَرَانِ اس کی رحمت کے درختوں کو میں بڑے بڑے دیکھتا ہوں خوش کرنے والے جیسے زعفران کا کھیت ہوتا ہے۔وَ قَوْمِي كَفَّرُونِى مِنْ عِنَادٍ وَالْحَادٍ وَ تَحْرِيفِ الْبَيَانِ اور میری قوم نے مجھے عناد سے کافر ٹھہرایا اور الحاد اور تحریف سے کا فربنانے میں کوشش کی۔فَيَا لَعَان لَا تَهْلِكُ عَجُولًا وَلَا تَهْجُرُ فَتَرْجِعَ كَالْمُهَان پس اے مجھ پر لعنت کرنے والے جلدی سے ہلاک مت ہو اور مسلمانوں کو اپنے گروہ سے جدا نہ کر کہ اس میں تیری رسوائی ہے۔وَ وَشْكُ الْبَيْنِ صَعَبٌ عِنْدَحُرِّ وَإِنَّ الْحُرَّ كَالْحَانِى يُقَانِي اور جلد جدا ہو جانا شریف آدمی کے نزدیک ایک سخت بات ہے اور شریف آدمی ایک مشفق مہر بان کی طرح ملتا ہے۔