اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 95

الهدى و التبصرة لمن يرى ۹۵ اردو ترجمہ ولا راح العارفين ينقلبون في صادقوں کی بُو باس نہ پائے گا اور نہ قواليب العلماء ولا تجدهم الا عارفوں جیسی نشاط۔وہ علماء کے روپ میں كقالب من غير قلب الأتقياء۔گھومتے ہیں۔تو انہیں ایک ایسے قالب جیسا إن هم الا كالأنعام۔ما ارضعوا پائے گا جس میں متقیوں کا دل نہیں وہ تو بس تدى العـلـم وما أُشربوا كاس چوپاؤں جیسے ہیں۔نہ انہوں نے علم کی (۷۸) الكرام۔يخدعون الناس بحلل چھاتیوں سے دودھ پیا اور نہ شرفاء کے جام العلماء۔وسناعة المتاع وحسن سے نوش کیا۔علماء کے لبادوں میں اور دنیا الرواء۔وإن هم الا قبور مبيضة کے اسباب کی چمک دمک اور اپنی خوبروئی عند العقلاء۔وليس عندهم من سے وہ لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔عقلمندوں غير لحي طولت وأنف کے نزدیک وہ چمکتی قبروں جیسے ہیں۔اُن شمخت۔و وجوه عبست کے پاس لمبی داڑھیوں، اونچی ناکوں،۔۔وقلوب زاغت والسن سُلطت۔تیوری چڑھے چہروں ، کج دلوں ، تیز طرار وكـلـم تعفّنت۔يرمون البريئين۔زبانوں اور متعفن باتوں کے سوا کچھ نہیں۔ويُكفّرون المسلمين وكم من وہ معصوموں پر تہمتیں لگاتے اور مسلمانوں کو خصال فيهم تحکی خصائل کا فر ٹھہراتے ہیں۔ان کی بہت سی عادتیں سباع۔وكم من أعمال تشابه درندوں کی عادات جیسی اور کام کمینوں کے عمل لكاع۔وكم من لدغ سبق اعمال جیسے ہیں اور کتنے ہی ڈنک ہیں جو صحرا لدغ حَيَوَات الصحراء۔وكم کے سانپوں کے ڈسنے سے سبقت لے گئے ہیں من طعـن خـجـل قـنـا الهیجاء اور کتنے ہی طعنے ہیں جنہوں نے جنگ کے يدعون أنهم على خلق إدريس نیزوں کو بھی شرما دیا۔دعویٰ تو اخلاق اور یسی کا ثم يُظهرون خليقة إبليس۔لیکن اظہا را ابلیسی فطرت کا کرتے ہیں۔حاصل فالحاصل أنهم ليسوا رجال هذا كلام یہ کہ یہ اس میدان کے مرد نہیں بلکہ