اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 184
الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۸۴ اردو ترجمہ ههنا لتزداد في البصيرة ولتعلم کرتے ہیں تا کہ تجھے یہ معلوم ہو جائے کہ عیسی أن صعود عيسى إلى السماء ( علیہ السلام ) کا آسمان کی طرف صعود آپ تهمة عليه ومن أشنع الفرية پر ایک بہت بڑی تہمت اور ایک گھناؤنا أكان في السماء قبيلة من بنى الزام ہے ۔ کیا آسمان پر بنی اسرائیل کا کوئی إسرائيل فدلف إليهم لإتمام قبیلہ تھا کہ اتمام حجت کی خاطر آپ ان کی الحجة؟ ولما لم يكن الأمر طرف چل دیئے ۔ جب ایسی کوئی بات نہ تھی كذالك فأى ضرورة نقل أقدامه تو آپ کو کونسی ایسی ضرورت آن پڑی تھی کہ إلى السماء ؟ وما العذر عنده إنه آپ آسمان کی طرف قدم بڑھاتے ۔ اور لم لم يبلغ دعوته إلى قومه آپ کے پاس کیا عذر ہوا کہ آپ نے ان المنتشرين في البلاد علاقوں میں اپنی منتشر قوم کو دعوت دین نہ والمحتاجين إلى الاهتداء ؟ پہنچائی جو کہ راہنمائی کی سخت محتاج تھی ۔ اور والعجب كل العجب أن الناس پھر سب سے بڑھ کر تعجب کی یہ بات ہے کہ يُسمّونه نبيا سياحًا وقالوا إنه لوگ آپ کو سیاح نبی کے نام سے موسوم سلك في سيره مسالك لم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ اپنے سفر يرضها السير ولا اهتدت إليه میں ان راستوں پر چلے ہیں جن پر اور کوئی الطير۔ وطوى كل الأرض أو نہیں چلا ۔ اور نہ وہاں کوئی پرندہ پھٹکا ۔ آپ أكثرها ووطأ حمى الأمن وغير نے سارے علاقہ یا اس کے بیشتر حصہ کو عبور الأمن۔ ورأى كل ما کان کیا اور پُر امن و پُر خطر راستوں کو طے کیا ۔ موجودا في الزمن۔ ومع ذالك اور اُس زمانے کی موجودات کا مشاہدہ کیا ۔ يقولون إنه رفع عند واقعة بایں ہمہ وہ کہتے ہیں کہ آپ واقعہ صلیب کے الصليب من غير توقف إلى موقع پر بلا توقف آسمان کی طرف اٹھا لئے