اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 185 of 209

اَلھُدٰی وَالتَّبْصِرَةُ لِمَنْ یَّریٰ — Page 185

الهدى و التبصرة لمن يرى ۱۸۵ اردو ترجمہ السماء۔وما برح أرض وطنه گئے اور جب تک حضرتِ کبریا کی طرف بلا نہ حتى دُعِى إلى حضرة الكبرياء لئے گئے آپ اپنی سرزمین وطن میں ہی مقیم فما هذه التناقض أتفهمون؟ وما رہے۔یہ کیا تناقض ہے کیا تم سمجھا سکتے ہو؟ هذه الاختلاف أتوفّقون؟ فالحق اور یہ کیا اختلاف ہے کیا تم تطبیق کر سکتے والحق أقول إن القول الآخر ہو ؟ سچ یہ ہے اور میں بالکل سچ سچ کہتا ہوں صحيح۔وأما القول بالرفع فهو که آخری بات صحیح ہے اور ( جسمانی ) رفع مردود قبيح۔فإن الصعود إلى والى بات مردود اور فتیح ہے کیونکہ اپنے السماء قبل تكميل الدعوة إلى تمام قبائل کو پیغام حق پہنچانے کے فریضہ کی القبائل كلهم كانت معصية تحميل سے قبل ، آسمان کی طرف صعود کرنا صريحة۔وجريمة قبيحة۔ومن ایک کھلی معصیت تھی اور ایک سنگین جرم۔اور المعلوم أن بني إسرائيل في عهد یہ معلوم ہے کہ عیسی علیہ السلام کے زمانے میں عيسى عليه السلام كانوا بنی اسرائیل ہندوستان ، ایران اور کشمیر کے متفرقين منتشرين في بلاد الهند علاقوں میں جگہ جگہ پھیلے ہوئے تھے اور یہ وفارس و کشمیر فكان فرضه آپ کا فرض تھا کہ آپ اُن کے پاس پہنچتے ، أن يُدركهم ويُلاقيهم ويهديهم ان سے ملتے اور رب قدیر کی راہ کی جانب إلى صراط الرب القدير۔وترك ان کی رہنمائی فرماتے۔فرض کا ترک کرنا الفرض معصية والإعراض عن معصیت ہے اور ایسی قوم سے بے تو جہی برتنا قوم منتظرين ضالين جريمة جو ایک ہادی کی ) منتظر ہو اور گمراہ ہو كبيرة۔تعالى شأن الأنبياء ایک بہت بڑا جرم ہے۔اور معصوم انبیاء کی المعصومين من هذه الجرائم شان ان گناہوں سے جو انتہائی قابل مذمت التي هي أشنع الذمائم۔ثم بعد ہیں ، بالا ہے۔اب اس کے بعد ہم ان