الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 233
۲۳۴ نبوت کا دروازہ کلی طور پر بند نہیں جانتے تھے۔بنکہ حدیث نبوی کے رویے نبوت کی اقسام میں سے ایک قسم کی نبوت کو یعنی نبوت المبشرات کو قیاسیان تک جاری مانتے تھے۔خلاصہ بحث متعلق اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت بانی سلسلہ تبدیلی تعریف نبوت احمدیہ کا مفتی صاحب کے مزعوم پہلے دور میں معتدد۔مسیح موخود اور مہندی کے دخوشی کے علاوہ یہ دخویی بھی موجود تھا کہ آپ کی خدا تعالے نے اپنے الہامات میں نہیں اور رسول معنی کما ہے اور امتی بھی قرار دیا ہے۔لہذا آپ ایک پہلو سے بنی ہیں اور ایک پہلو سے امتی۔لیکن آپ معروف اصطلاح کے مطابق بنی نہیں کیونکہ شعر در اصطلاح میں نبی وہ ہوتا ہے جو شریعیت یا احکام جدیدہ لائے یا مستقل طور پرشی پروتینی کسی بھی سابق کا امتی نہ کہلاتا ہو ہو کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ آنحضرت سلی شد علیہ وسلم کے اتنی بھی تھے۔اور خدا نے آپ کو نبی اور رسول کا نام بھی دیا تھا اس لئے آپ نے اپنی نبوت کی یہ ترجمہ کی کہ آپ نبوت تامہ کے حاصل نہیں جزئی نبوت کے حامل ہیں جس کو دوسرے لفظوں میں محمد ثیت کہتے ہیں۔شعری اصطلاح کے مقابل آپ نے اپنی نبوت کو مجازی بھی قرار دیا۔چونکہ آپ کا میسج موجود کا بھی دھو سی تھا۔اور مسیح مو خود کو حدیث نبوی میں نبی اللہ بھی قرار دیا گیا ہے اور راکتی ہیں۔ہندا آپ نے حدیث کے الفاظ نبی اللہ کی نہیں یہی توجیہ کی کہ اس میں نبی اللہ سے مراد العطل بھی بنی نہیں جو حقیقی بنی ہوتا ہے بلکہ مجازی بیٹی مراد ہے۔کیونکہ جب ایک حقیقت حال اور متعذر ہو تو پھر