الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 232
ما كان محمد ابا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلكِن رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبين ترجمہ : جان سے خدا تجھے مجھ عطا کی ہے کہ بے شک نبی محمدت ہوتا ہے اور محمدت نبوت کی قسموں میں سے ایک قسم حاصل ہونے کے لحاظ سے بنی ہوتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے نعوت میں سے صرف المبشرات ہاتی ہیں۔یعنی نبوت کی اقسام میں سے صرف ایک قسم جو المبشرات ہے باقی ہے از قسم رویا، صادقہ اور مکاشفات صحیحہ اور از روتے وحی ہو خاص الخاص اولیاء پر نازل ہوتی ہے اور از قسم نور جو درد مندوں پر تجلی کرتا ہے۔اسے ناقد بصیر غور کر لے کیا اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ نبوت کا دروازہ کلی طور پر بند ہو گیا ہے۔نہیں بلکہ عد میشہ دلالت کرتی ہے کہ نبوت قامہ کا ملہ وحی شریعیت والی منقطع ہو گئی ہے۔اور وہ نبوت جس میں صرفتہ المبشرات ہوتی ہیں۔وہ قیامت دن تک باقی ہے وہ ہرگز منقطع نہیں۔۔۔۔۔۔لیکن نبوست تامہ کا ملہ جو تمام کیا است وحی کی حامل ہوتی ہے اس کے اس دن سے منقطع ہو جانے کو ہم مانتے ہیں جس دن آیت مَا كَانَ محمد أبا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَالَمَ النَّبِيِّين نازل ہوئی۔ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ مفتی صاحب کے مزعومہ کو یہ اول میں جس میں وہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو مسلمانوں کی طرح ایک کے سلمان جانتے ہیں۔آپ اپنے تیلین مسیح موجود قرار دیتے ہوئے بڑائی نبی بھی فرامہ دیتے تھے اور اس طرح