الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 234
۲۳۵ انے کا اطلاق مجاز کی ہی قرار دیا جا سکتا تھا۔لیکن مفتی صاحب کے نزدیک حضرت سلئے علیہ السلام اصالتا اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی بن کر یا مووی ہے اور نبوت سے معزول بھی نہیں ہوں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنی بن کر اقت کے امام بھی ہونگے لیکن مفتی صاحب نے جب اصطلاحی نبوت کو درست قرار دے دیا ہوا ہے جس کا مفاد یہ ہے کہ نبی کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی بنی سابق کا اتنی نہ ہو کیونکہ نبی اور امتی کے مفہوم میں تناقض اور تیائن ہے جو مفتی صاحب کو مسلم ہے تو امتی ہو جانے کی صورت میں حضرت ا کس و کون این دورانی کا اجتماع بوجہ تناقض محال ہے۔اب اگر مفتی صاحب حضرت علی سے علیہ السلام کو آمد شافی میں در حقیقت نہی جائیں اور اتنی بھی قرار دیا تو انہیں اصطلاحی تعریف میں ضرور تبدیلی کرنا پڑے گا اور اس اصطلاحی تعریف کو صرف استقرائی جان کر انتظامہ ناقص پر مبنی قرار دے کہ غیر جامع قرانہ دینا پڑے گا۔اور تعریف نبوت میں یہ شق بھی پڑھانا پڑے گی کہ البتہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا اتنی بھی نبی ہو سکتا ؟ اس طرح تعریف نبوت دیا میں مانع ہو جائے گی۔اور مسیح موعود کا فی الواقع سنی ہونا ممکن ہو جائے گا۔مجال نہ رہے گا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام بھی اللہ تعالے کی طرف سے متوا نہ دھی کے ذریعہ یہ انکشاف ہو گیا کہ آپ کو صریح طور پر نبی کا خطاب دیا گیا ہے۔مثل اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو ہے اتنی اور