الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 105
1-4 علامه حکیم صوفی محمدحسن ریاحب مصنعت غایۃ المریان لکھتے ہیں۔الغرض اسطلاح میں نبوت بخصوصیت المیہ خبر دینے سے عبارت ہے۔وہ دو قسم ہے ایک نبوت تشریعی جو ختم ہو گئی۔دوسری بنوت لمعنی خبر دادن وہ نو منقطع ہے۔پس اس کو مبشرات کہتے ہیں۔اپنے اقسام کے ساتھ اس میں ادبالہ سبھی ہیں۔(الکواکب الدریۃ نے اسے ۱۳) حضرت بھی الدین ابن العربی اسی حدیث کے پیش نظر فرماتے ہیں :۔فَالتبرة سَارِيَة إِلى يَوْمِ القِيَامَةِ فِي الخَلْقِ وَ إن كان التشريع لَعَ فَالتَّثَة اجزاء الشبورة کہ نبوت مخلوق میں قیا منت بیت کا لانا منقطع ہے ہیں ہے گوئی شریعیت کا لانا نہرت کے اجزاء میں سے ایک جز رہے۔پھر وہ لکھتے ہیں کہ شریعیت کا لانا نبوت کی جیز و عارض ہے یعنی نبوت کی جز وفاتی نہیں۔چنانچہ سخریہ فرماتے ہیں :- علمنا أن التشريح امر عَارِضُ بِكَوْنَ عِيسَى عَلَيْهِ عليه السَّلامُ يَنْزِلُ فِيْنَا حَكَما مِنْ غَيْرِ تفريع وهو نبي بلا شاب : (فتوحات مكتبة جلد اول شد نبوت کے متعلق لکھتے ہیں: ليست البة بامرِ ذَائِم عَلَى الانبار الا لعي رنتوهات مکیه میله ۲ ممالک سوال عششا