الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 104
1-8 ہوتے ہیں کوئی منافات نہیں اس صورت میں کہ وہ آپ کی شریعیت کے احکام جمانی کریں۔اور آپ کی طریقت کو پختہ کریں خواہ وہ ایسا اپنی دھی کے ذریعہ ہی کریں۔حديث لم يبق من العبوة إلا المبتورات کی تشریح میں جو رو یاد صالحہ کے الفاظ دوسری حدیث میں والہ د ہیں اس کی تشریح میں حاشیہ ابن ماجد پر لکھا ہے۔المراد انها تمثيقَ عَلَى الْعُمُومِ الا الاتهام انَّهَا والكشف للاولياء موجود ہوگئے یعنی مراد یہ ہے علی العموم نبوت میں سے صرف اچھے خواب باقی رگئے ہیں۔ورنہ اولیاء کے لئے کشف والہام کا پا نا میں وقوع میں آچکا ہے۔اللہ شعرانی لکھتے ہیں۔قد يكون دمى البَشَائِرِ يَواسِطَةِ مَلك الا الينا والجواب اعلام یعنی کبھی بشارتوں والی وحی فرشتہ کے واسطہ سے ہوتی ہے۔حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:۔اللہ تعالے کا بیٹر سے کام کرنا کبھی بالمشافہ ہوتا ہے، در یک کلام انبیاء کے ساتھ ہوتا ہے۔اور کبھی انبیاء کے بعض کامل متبعین سے یہی بطو را تباع اور وراثت بالمشافہ کلام کرتا ہے اور جب بھی کسی سے بکثرت ایسا کام ہو تو وہ محدث کہلاتا ہے کہ (مکتوبات میلاد ۲ مکتوب ۵۳ ۹)