الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 89 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 89

9- پھر لکھتے ہیں :۔، كما ارتفعت الخبرة الكلية ولهذ الحلنا إنما ارتفعتَ نُبُوَّةُ النشر تيعِ فَهَذَا مَعْنى لا ني بعد فتوحات مکیہ جلد م ) رجمہ - تثبوت کلی طور پر بند نہیں ہوتی اس لئے ہم نے کہا صرف تشریعی نبوت بند ہوئی ہے۔پس لا نبی بغربانی کے بہی معنی ہیں۔مولانا جلال الدین رومی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں۔براین خاتم شد او که بخود مثل اوئے بود کے خواہبند بود یعنی آنحضرت سے اللہ علیہ وسلم اس لئے خاتم ہوتے ہیں کہ فیمن روحانی پہنچانے میں نہ آپ کی مثل کوئی ہوا ہے نہ ہوگا۔اس شعر میں آپ کی خامیت بالذات مرضی کا بیان ہوا ہے کہ آپ خاتم بمعنی فیض پہنچانے والا وجود ہیں۔اگلے شعر میں فرماتے ہیں : چونکه در صنعت برد استادات نے تو گوئی ختم صنعت بر توست ر مثنوی میله به صت مطبوعه نول کشور) کہ جب کاریگر ہی میں کوئی استاد دوسروں سے بڑھ جاتا ہے تو کیا تو نہیں کہنا تجھے پر کا ریگری کمال کو پہنچ گئی ہے بینی تجھ جیسا کوئی صنعت گر نہیں۔اس شعری مولانا موصوف آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو انتہائی کمال رکھنے والا صانع قرار دیا ہے۔ان معنوں میں نہیں کہ آئندہ کوئی نبی نہیں ہوگا