الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 88 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 88

^9 اس حدیث کی تشریح میں شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں : ان النبوة التى الْقَطَعَتْ بِوُجُودِ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هِيَ نبوة التشريع لمَقَامُهَا فَلَا شَرعَ يَكُونُ تاسعًا لِشَرعه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلا يزيد في تريم كلما أخر و هذَا حَى قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسلم إلى الرسالة والنُّبُوةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُول بعدني ولا سبق أن لا نبى يكون على شرح يُخالف شرعي بل إذا كان يكون تحت حكم شريعتي و فتوحات مکیہ جلد ۲ مس) ترجمہ۔وہ نبوت جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے منقطع ہوئی ہے وہ صرف تشریعی نبوت ہے نہ کہ مقام ہوت۔بس اب کوئی شرع نہ ہوگی جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی ناسخ ہو اور نہ آپ کی شرح میں کوئی حکم پڑھانے والی شروع ہوئی۔یہی معنی ہیں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے کہ رسالت اور نبوت منقطع ہو گئی ہے پس میرے بعد نہ رسول ہوگا نہ کوئی نینی یعنی مراد آغضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی اپنے اس قول سے یہ ہے کہ اب کوئی ایسانی پیدا نہیں ہو گا جو میری شریعت کے مخالف شریعت پر ہو بلکہ جب کبھی پیدا ہو گا تو وہ میری شریعیت کے حکم کے ماتحت ہوگا۔