الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 303
٣٠٣ فرمائے گئے ہیں۔جناب مفتی حب ! آپ <mark>نہی</mark>ں کر سکتے کہ امت کا اس بات پر اجماع ہے۔کہ حضرت عیسی علیہ السلام اصالتا نازل ہونگے کیونکہ ایسا اجماع ہرگز ثابت <mark>نہی</mark>ں ہیکہ ایک گروہ مسلمانوں کا بموجب حدیث لا <mark>محمد</mark>ی الا عیسی ابن مریم و ابن ماجه یہ مانتا چلا آیا ہے کہ نزول مسیح سے یہ مراد ہے کہ امام مہدی حضرت عیسی علیہ السلام کا ہوا ہوگا۔ملاحظہ ہو اقتباس الانوار ملا اور مسلم الثبوت مع شرح منہ میں شیخ محب اللہ بن عبد الشکور لکھتے ہیں:۔اما في ال<mark>مستقبل</mark>ات كا شَرَاطِ السَّاعَةِ وَأمُورِ الْأَخِرَةِ فلا در جماع ناقل عِنْدَ الْحَنَفِيَّةِ لأَنَّ الْغَيْبَ لاستكمل فيه للاجتهاد - یعنی جو باتیں <mark>مستقبل</mark> سے تعلق رکھتی ہیں جیسے علامات قیامت رہن میں لز دل ابن مریم بھی شامل ہے۔ناقل ) اور امور آخرت میں خفیوں کے نزدیک اجماع <mark>نہی</mark>ں ہو سکتا۔کیونکہ اور غیبی ہیں اعتماد کا کوئی دخل <mark>نہی</mark>ں۔حضرت مسیح موعود علی اسلام نے پیشگوئی فرائی ہے۔مسیح موعود کا آسمان سے اترنا محض چھوٹا خیال ہے۔یادرکھو کوئی آسمان سے <mark>نہی</mark>ں اُترے گا۔ہمارے سب مخالف جو آپ زندہ موجود ہیں وہ تمام مریں گے اور کوئی ان میں سے پلیٹی ابن مریم کو آسمان سے اترتے <mark>نہی</mark>ں دیکھے گا پھر ان کی اولاد جو باقی رہینگی وہ بھی مرے گی اومان میں سے کوئی آدمی بیٹے ابن مریم کو آسمان سے اتر تے میں رکھے گا اور پھر اولاد کی اولاد مرے گی اور وہ بھی مریم کے بیٹے کو آسمان سے اُترتے <mark>نہی</mark>ں دیکھے گی تب خدا ان کے دلوں میں گھر میٹ ڈالے گا۔کہ زمانہ صلیب کا بھی گزر گیا