الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 302 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 302

P-P حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے ہمیشہ تشریعی نبی یا ستقل شریعت لانے کے دھونی سے انکار کیا ہے۔وہ صرف غیر تشریعی نبی ہونے کے ماضی ہیں وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ آپ ایک پہلو سے بنی ہیں اور ایک پہلو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انتی بھی ہیں۔اور آپ نے یہ مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افامدہ روحانیہ کے واسطہ سے حاصل کیا ہے، چونکہ حضرت عیسی ابن مریم علیہ اسلام قرآن کریم کے رُو سے وفات پاچکے ہوتے ہیں اور احادیث نہوتہ کے رو سے واضح ہے۔کہ آپ نے صرف ۱۲۰ سال عمر پائی اور کوئی حدیث اس مضمون کی موجود نہیں کہ وہ دو اڑھائی ہزار سال یا اس سے زیادہ عمر پائینگے اس لئے اسے مفتی صاحب آپ کو اب حضرت عیسے علیہ السلام کی اصالتاً آمدثانی کا انتظار ترک کر دینا چاہیئے۔اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے اس دعوئی کو تسلیم کر لینا چاہیے۔کہ نزول مسیح کی پیش گوئی کے مثیل مسیح ہو کہ آپ ہی مصداق ہیں۔اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی نزول مسیح کی احادیث کے متعلق تشریح قبول کر لینی چاہئیے۔کہ امت میں سے آنے والے عہد کی آخر الزمان کو سہی احادیث نبویہ میں استعارہ کے طور پر مینے یا ابن مریم کا نام دیا گیا ہے۔کیونکہ نہ دل مسیح کی احادیث مندرجہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ناول ہونے والے ابن مریم کو اما مکنم مشکم اور فائکم منکم قرار دے کر امت محمدیہ میں سے امت کا امام قرار دیا گیا ہے اور مسند احمد بن طفیلی کی حدیث میں آئندہ آنے والے خلیسی کو صاف طور پر امام مہدی قرار دیا گیا ہے۔اور اس کے حق میں اماما محمد یا حكماً عدلا کے الفاظ مستعمل