الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 283
٢٨٣ وه تعارض تومان ارسی غلطی ہوادر اگر کسی طرح وہ تعارض دُور نہ ہو۔تو ایسی حدیث کو پھینک دو۔کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نہیں ہے اور اگر کوئی حدیث ضعیف ہے مگر قرآن " سے مطابقت رکھتی ہے تو اس حدیث کو قبول کر لو۔کیونکہ قرآن اس کا مصدق ہے۔اور اگر کوئی ایسی حدیث ہے جو کسی پیشنگوئی پرمشتمل ہے۔مگر محدثین کے نزدیک وہ ضعیت ہے۔اور تمہارے زمانہ میں اپہلے اس سے اس حدیث کی پیش گوئی سچی نکلی ہے تو اس حدیث کو سمی سمجھو اور ایسے محمدتوں اور رادیوں کو مخفی اور کاذب خیال کرو جنہوں نے اس حدیث کو ضعیف اور موضوع قرار دیا ہو (کشتی نوح من (۵۸) احادیث نبویہ کی قدر عظمت اور تائید کے بارہ میں اس سے بہتر بیان کیا ہوتا ہے۔پس مفتی صاحب کا یہ بہتان ہے کہ آپ نے احادیث کی توہین کی ہے۔مفتی صاحب کا یہ اعتراض عالمانہ نہیں محض طفلانہ ہے۔گالیوں کا الزام کا الزام قائم کرنے کے لئے جناب مفتی جی سینے گالیوں کا الزام صاحب کے بیان جنگ پیش کی ہیں۔جنہیں مفتی صاحب نے اصل کتابوں سے دیکھے بغیر تحقیق کا فرض نوادا کرتے ہوئے مودودی صاحب کے بیان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں درج کر دیا ہے الی بین عبارت پہلی عبارت یہ ہے :- سل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا ہے۔اور میری دعوت کی تصدیق