الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 282
PAY سنت تک کے لائق ہے۔اور موید قرآن وسنت ہے۔اور بہت سے اسلامی مسائل کا ذخیرہ اس کے اندر موجود ہے۔پس حدیث کا قدر نہ کرنا گویا ایک عضو اسلام کا کاٹ دینا ہے۔ہاں اگر ایک ایسی حدیث جو قرآن وسنت کے نقیض ہو۔اور نیز ایسی حدیث کی تقسیم ہو جو قرآن کے مطابق ہے۔یا مثلا ایک ایسی حدیث ہو جو صحیح بخاری کے مخالفت ہے تو وہ حدیث قبول کے لائق نہیں ہوگی۔کیونکہ اس کے قبول کرنے سے قرآن کو اوران تمام احادیث کو جو قرآن کے موافق ہیں رو کرنا پڑتا ہے۔اور یں جانتا ہوں کہ کوئی پر سہیز گار اس پر جرات نہیں کرے گا۔کہ ایسی حدیث پر عقیدہ رکھے کہ وہ قرآن اور سنت کے برخلاف اور ایسی حدیثیوں کے مخالف ہے۔جو قرآن کے مطابق ہیں۔ہر حال احادیث کا قدر کرو۔اور ان سے فائدہ اٹھائے کہ وہ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہیں۔اور جب تک قرآن اور سنت ان کی تکذیب نہ کرے تم بھی ان کی تکذیب نہ کرو۔بلکہ چاہیئے کہ احادیث نبویہ پر ایسے کاربند ہو کہ کوئی حرکت نہ کرتہ اور نہ سکون اور نہ کوئی فعل کرو اور نہ ترک فعل مگر اس کی تائید میں تمہارے پاس کوئی حدیث ہو۔لیکن اگر کوئی ایسی حدیث ہو جو قرآن شریف کے بیان کردہ قصص سے صریح مخالف ہے تو اس کی تطبیق کے لئے فکر کرو۔شاید