الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 235
ب حضرت جیسے علیہ السّلام سے بوجہ محمد فی مسیح ہونے کے افضل ہیں اس سے آپ یہ سمجھ گئے۔اصطلاحی تعریفت نبوت جامع نہیں۔لہذا تعریف میں اس تبدیلی کی ضرورت ہے کہ البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بھی ہوسکتا ہے۔چنانچہ آپ نے تعریف نبوت میں اس طرح تبدیلی کرلی۔اور اپنا تعام المبشرات والی نبوت میں آئندہ محدث سے بالا قرار دیا۔اور اپنے تئیں ہوتی نی گنا بھی ترک کر دیا۔نفیس نبوت یعنی نبوت مطلقہ کے لحاظ سے نہیں قرار دیا۔اور امنیت کے پہلو کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان پرولین ٹھہرایا۔اور اپنی نبوت اور دیگر انبیاء کی نبوت میں صرف ذریعہ حصول نبوت کا یہ فرق بتایا کہ آپ نے مقام نبوت فنا فی الرسول کے دروازہ سے حاصل کیا ہے اور یہ کہ میں وقت سے خدا تعالے نے آپ کو نبی اور رسول کہا ہے اس وقت سے ہی آپ ایک پہلو سے بنی اور ایک پہلو سے امتی ہیں۔پس اپنی نبوت کے متعلق اعلان میں سابق اصطلاحی تعریف نبوت کی وجہ سے صرف در دور قرار دیئے جا سکتے ہیں۔اور دوسرے دور میں تعریفی نبوت میں سے اس سے تبدیلی فرمائی ہے اور اس تبدیلی کو منشاء قرآن مجید کے مطابق قرار دیا ہے۔چنا نچہ اسی کے بنی ہو سکنے پر سورۃ نساء رکوع 4 کی آیت من يطع الله الرسول فأدليكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِينَ البين والصديقين والشهداء والصَّلِحِينَ روشن بيل ہے اور آیت لا يظهر على غيبه أحدا إلا من الأعلى من رسول کے رو سے بتایا ہے کہ میں پا مور یہ بکثرت ظاہر ہوں جو عظیم الشان ہوں