الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 236 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 236

اس پر مفہوم نبی کا صادق آتا ہے۔اس وقت سے آپ نے نبوت کی یہ تعریف قرار دی که: میرے نزدیک بنی اسی کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی رقمی وا ا کرات نازل ہو جو غیب پر مشتمل ہو۔اس لئے خدا نے میرا نام بنی رکھا مگر بغیر شرعیت کے تجلیات المیہ ) مگر اس امزید آپ نے پھر بھی ہمیشہ یہ احتیاط کی کہ معروف اصطلاحی تعریف کی وجہ سے کوئی شخص غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو۔اور آپ کو تشریعی در ستنقل بینی کا مرحمی نہ سمجھ لے اس لئے آپ نے یا تو اپنے تئیں ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی کہا۔یا یہ کہا کہ آپ خلقی اور بروز می نہیں ہیں۔تا کہ تشریعی انبیاء اور مستقل انبیاء کی نبوت سے آپ کی نبوت کا انتباہ نہ ہو اور ذریعہ حصول نیوست کا یہ فرق بھی واضح ہوتا رہ ہے کہ آپ نے آ خضر وسلم میں فنا ہو کر فنا فی الریسول کا مقام حاصل کرنے کے بعد آنحضرت صلے ہے علیہ وسلم کے افاضیہ روحانیہ سے مقامہ نبوت پایا ہے۔نیز عرفی تعریعت نبوت کے پیش نظر اہل قریب کو بھی اس القباس اور غلط فہمی سے کھانے کے " لئے آپ نے اپنی کتاب الاستفه تقیقة الوحمہ میں جو عربی نہ بات ہے ایسی تحریر فرمایا ہے۔معهتر لبيا من اللي على طريق المال لا على نَبِيًّا رجه العريقة۔ہیں میں اللہ کی طرف سے بی کا نام مجاز کے طریق پر دیا گیا ہوں حقیقت کے طریق پر