الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 230
PM کہ اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کر ہے۔اور اس سے انکار کرنے وال ایک حد تک منقووب مرا ٹھہرتا ہے۔اور نبوت کے معنی پھر اس کے اور کچھ نہیں کہ امور منند کرہ بالا اس میں پائے جائیں۔ر توضیح مرام الش) اس مہارت سے ظاہر ہے مفتی صاحب کے مزعوم دو یا قتل میں محضرت بانی مسلہ احمدیہ علیہ اسلام اپنے آپ کو بنی بمعنی مامور محدث قرار دیتے تھے، اور معنوی طور پر اسے نبوت ہی قرار دیتے تھے گو اصطلاحی تعریف نبوت کے مطابق اسے اسے ہی دیتے محقیقی نبوت نہیں جانتے تھے۔ندرجہ بالا عبارت کے آگے لکھتے ہیں:۔اگر یہ مدرکیش ہو کہ باب نبوت مسدود ہے اور وھی جو انبیاء پر نازل ہوتی ہے اس پر مہر لگ چکی ہے۔میں آتا ہوں کہ میں کل الوجود باب نبوت مسدود ہوا ہے کہ نہ ہر ایک طور سے وحی پر تیرا کھا ئی گئی گئی ہے بلکہ جزئی طور پہ دھی اور نبوت کا اس امت مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے۔مگر اس بات کو بحضور دل با درکھنا چاہیئے کہ یہ نبوت جس کا ہمیشہ کے لئے سلسلہ جاری رہے گا۔وست نامه نی بلکہ جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں وہ صرف ایک جزئی نبوت ہے جو دوسرے لفظوں میں محدثیت کے اسم سے موسوم ہے۔جو انسان کامل کے اقتدار سے ملتی ہے جو تجمع جمیع کمالات نبوت تامہ ہے یعنی ذات ستودہ صفات حضرت سیدنا