الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 229
اصطلاحی تعریف کے رو سے حقیقی نبی نہ ہو گا۔اس زمانہ میں آپ مامور محدث نے لئے اس کی استعداد باطنی کے لحاظ سے بنی کا اطلاق جائزہ قرار دیتے ہیں۔کتاب ازالہ اوہام سے پہلے تو مسیح مرام لکھی گئی۔اس میں آپ تحسر فرماتے ہیں:۔اس جگہ اگر یہ اختر امن کمیشن کیا جائے کہ مسیح کا مٹیل بھی نبی چاہیئے۔کیونکہ مسیح نبی تھا تو اس کا اول جواب تو یہی ہے کہ آنیوالے مسیح کے لئے ہمارے سید و مولی نے نبوت ریعنے نبوت نامہ مناقل شرط نہیں ٹھہراتی بلکہ مسافت طور پر یہی لکھا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہوگا اور عام مسلمانوں کے موافق شریعت فرقانی کا پابند ہو گا۔اور اس سے زیادہ کچھ بھی ظاہر نہیں کریگا۔کہ میں مسلمان ہوں اور مسلمانوں کا نام ہے ماسوا اس کے اس میں کچھ اک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالی کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے اور محدت میں ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے۔گو اس کے لئے نبوت نامہ نہیں مگر تا ہم جزوی طور پر وہ ایک بنی ہی ہے۔کیونکہ ڈھ خدا اجالے سے ہم کلام ہونے کا ایک شرفت رکھتا ہے۔امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں۔اور رسولوں اور بچیوں کی وحی کی طرح اس کی دھی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے۔اور سفر شریعیت اس پر کھولا جاتا ہے اور بعینہ انبیاء کی طرت نامور ہو کہ آتا ہے۔اور انبیاء کی طرح اس پر فرض ہوتا ہے