الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 11
دها بسنت نبوی کی بناء پر یقین رکھتی ہے کہ جس عیسی بن مریم کی آمدثانی کا اتر احادیت مفتی محمد شفیع صاحب کا عقیدہ ہے وہ وفات پاچکے ہیں۔اس لئے مولوی محمد شفیع صاحب کو ختم نبوت پر محبت کرنے کی بجائے احمدیوں کو حیات مسیح کا مسئلہ سمجھانا چاہیئے تھا کیونکہ وہ حیات مسیح مان کر ہی آپ کے پورے عقیدہ ہو سکتے ہیں۔جب قرآن مجید کی آیت كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا ما دمت فيهمْ فَلَمَّا تَوَنَيْتَنِي كُنْتَ اَنتَ الرقيب عليهم نے سمات فیصلہ دے دیا ہے کہ حضرت ملیئے علیہ السّلام وفات پاچکے ہیں۔اور وہ اصالتاً دوبارہ نہیں آئیں گے تو د دوئی سیح کی احادیث کی تطبیق اس آیت سے اسی طرح ہو سکتی ہے کہ پیشگوئیوں میں مثیل مسیح کا نزول مراد ہے اور میلے یا این مریم کا لفظ ان پیش گوئیوں میں بلیو استفادہ استعمال ہوا ہے حدیث نبوی مندر جو تصیح بخاری گیف انتم اذا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَ إِمَامُكُمْ مِشاهد باب نزول عینی کے الفاظ واما ماتم مشکور بھی اس بات کے لئے قرنیہ ہیں کہ میلے بن مریم کا اصالتہ نزول مراد نہیں بلکہ تمثیلی صورت میں نزول مراد ہے کیونکہ د اما مگر منکر کا جملہ اس بات پر شاہد ناطق ہے کہ میں شخص کا نزول حدیث میں بیان ہو رہا ہے وہ امت محمدیہ میں سے امت کا امام ہونے والا ہے امت سے باہر کا کوئی آدمی یا اسرائیلی مسیح مراد نہیں۔اس امر کی تائید صحیح مسلم کی حدیث کی انتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ فاسلم مینگو سے بھی بخوبی ہو رہی ہے۔جس میں صاف لفظوں میں