الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 12
۱۳ تھا مگر کا مرجع ابن مریم ہے۔اس ابن مریم کو اقت میں سے امت کا ہونے والا امام قرار دیا گیا ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کا ایک سو میں سال عمر يانا حدیث نبوى ان عيسى بن مَرْيَمَ عَاشَ مِائَةً وَ عِشْرِينَ سنة اور حدیث نبوی عمر مائة وعشرین سے مخصوص ہے۔اور کوئی ایسی حدیث نبوسی موجود نہیں کہ جس میں یہ ستبلایا گیا ہو کہ وہ دو ہزار سال یا اس سے زیادہ عمر پائیں گے۔آیت فَلَمَّا تَوَتَنِی اس بات پر نص صریح ہے کہ حضرت عیسے علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔اور وہ قیامت تک دو یا۔اپنی قوم میں نہیں آئیں گے مضمون اس اس آیت کا یوں ہے کہ :۔کہے گا۔اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حضرت علی علیہ سے ا انت قلتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَاتِي الْمَيِّنِ مِنْ دُونِ الله کہ کیا تو نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو عیبو با تو تو حضرت جیسے علیہ السلام قیامت کے دن جواب میں کہیں گے۔اے اللہ تو پاک ہے یہ میری شان نہ تھی کہ کہیں وہ بات جس کا مجھے سبق نہ تھا۔کتا۔اگر میں نے ان کو ایسا کیا ہے تو تو جانتا ہے تو میرے نفس کی باتیت جانتا ہے اور میں تیرے نفس کی بات نہیں جانتا تو نہ ہیوں کا خواب جاننے والا ہے میں نے ان کو وہی کچھ کہا تھا نہیں کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ تعالے کی عبادت کرو۔جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا ابھی رب ہے اور میں قروم