الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 163
۱۶۴ گورنر صوبہ بہار میں کسی ذاتی ضرورت سے چلا جائے تو اگر چہ وہ اس وقت بحیثیت گورنزی نہیں ہوتا لیکن یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہ گورنری سے معزول ہو گیا۔ختم نبوت کا مل ماشیہ شنت) هم تو مفتی صاحب کے اس سارے بیان کو فلسط جبار سازی کا جواب جانتے ہیں کیونکہ ہم علی وجہ البصیرت وفات سے علیہ السلام کے ازروئے قرآن مجید و احادیث نبویہ قائل ہیں اور سیم موجود کے نز دل کو بروزی صورت میں مانتے ہیں لیکن اس سے قطع نظر مفتی صاحب کا یہ حیلہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام جب آئیں گے وہ نبوت سے معزول بھی گے اور امت صرف نہیں ہوا کو ماں کے نہ کہ یہی بھی ان کے نبوت سے معزول ہونے کے مترادف ہے جب بنی قوم میں موجود ہو۔اور فرائض نبوت کی بجا آوری اس کے نامہ نہ ہو تو عمارہ نبوت سے معزول ہوگا۔نی جب زندہ ہوا اور اپنی قوم میں موجود بھی ہو تو وہ ( on c اون رک the ڈیوٹی قرار پائے گا اور فرائض نجوت بجالائے گا۔مفتی صاحب نے اس جگہ گورنر کی جو مثال دی ہے۔وہ اس جگہ بدیں وجوہ منطبق نہیں ہوتی۔اول ممثل له یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کی دونوں بہشتوں کا زمانہ مختلف ہے ان دونوں بہشتوں کے درمیان کئی صدیاں پائی جاتی ہیں لیکن صوبہ پنجاب کے گورنر کے صوبہ بہار میں جانے کے زمانہ کا حال اس طرح نہیں دوره ممثل لہ اور مثال میں یہ میں اختلاف ہے کہ گورنرپنجاب بے شک