الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین

by Other Authors

Page 164 of 315

الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 164

144 گورنر ہی رہتا ہے جب کہ وہ عارضی طور پر اپنے ذاتی کام کے لئے کسی دوسر صوبہ میں جائے۔لیکن اگر وہ مستقل طور پر صوبہ پنجاب کو چھوڑ کر صوبہ بہار میں خیار ہے تو دنیا ٹر ہونے کی وجہ سے یا معزول ہونے کی وجہ سے وہ اپنے عہدہ گورنری پر قائم نہیں سمجھا جائے گا۔اس وقت وہ گورنر نہیں رہے گا۔پس اگر حضرت عیسی علیہ سلام کا امت محمدیہ میں مستقل طور پر آنا فرض کیا جائے جیسا کہ مفتی صاحب کا عقیدہ ہے تو پھر اگر وہ دنیا کے لئے بہی نہ ہوں تو انہیں نبوت سے معدول ماننا پڑے گا۔اور بنی جب تک زندہ ہر مفتی حجاب بھی اسے معزول نہیں مانتے۔اور نبی کا اپنی زندگی میںاور قوم میں موجود کیا ہی تھا میں نو سے ریٹائرڈ ہونا بھی متصور نہیں ہو سکتا۔تیسری وجہ مثل از اور مثال میں اختلاف کی یہ ہے کہ مفتی صاحب کی مثال میں صوبہ پنجاب کے گورنر کا حکم صوبہ پنجاب میں نا فنر ر ہے گا۔کیونکہ وہ عارضی طور پر اپنے کسی ذاتی کام کے لئے صوبہ بہار میں گیا ہو گا۔یہ مثال حضرت جیسے علیہ السلام کے بارہ میں تب صادق آسکتی ہے کہ بالفرض جب وہ نازل ہوں تو بنی اسرائیل میں ان کا حکم نبوت اپنی مترادیت کے مطابق نافذ ہو لعینی بنی اسرائیل میں وہ تورات و انجیل کو ہی نافذ کریں۔مگر یہ صورت اس جگہ مفتی صاحب کو مسلم نہ ہوگی کیونکہ قرآن مجید نے تورات وانجیل کو منسوخ کر دیا ہوا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بعد از نزول ان کے نزدیک شریعت اسلامیہ کے پابند ہوں گے اور اسی کا نفاذ کریں گے۔اس لحاظ سے بیجا نہ مثال حضرت عیسی علیہ السلام کی دوبارہ آمد پر منطبق نہیں ہو سکتی۔