الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 160
141 خاتم ال<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ین کے ظہور کے قریب زمانہ میں <mark>اللہ</mark> تعالے کے نزدیک کسی <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> کے پیسے جانے کی ضرورت نہ تھی۔البتہ یہ بزرگان دین حب حديث العلماء ورثة - الا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء کے کمالات سے حصہ دافر رکھتے تھے۔اور ان میں مبعض قیاست کے دن ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء کے درجات بھی پائیں گے۔چنانچہ حضرت مجدد الف <mark>ثانی</mark> علیہ رحمہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی <mark>اللہ</mark> عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی <mark>اللہ</mark> عنہ کے متعلق تو اپنے مکتوبات میں صارف لکھا ہے۔ه این هر دو بزرگوار از بزرگی و کلانی در ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء معدود داند و یکال ایشان محفوت و مکتوبات جلد اول ما ۲۵ مکتوب عل۳ ) کہ یہ ہر دو بزرگ ہستیاں اپنی بزرگی اور بڑائی کی وجہ سے ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء میں شمار ہوتی ہیں اور ان کے کمالات کی جاہتے ہیں۔پس یہ بزرگ بھی ان صحابہ میں سے ہیں جن کے متعلق آنحضرت صلے <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم نے فرمایا : كَادُ ذَا إِن تَيَكونوا انها و رختم <mark>نبوت</mark> کامل شام بحوالہ کنز العمال مرفوعا) کہ یہ لوگ باختہار کمال است ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء ہونے کے قریب ہیں۔مفتی صاحب کو اس جگہ خود رستم ہے۔وقت کمالات نبوی میں تمام پہلی امتوں سے بھی بہت آگے ہے اور حملہ <mark>نبوت</mark> نہ منا چونکہ آپ کی <mark>نبوت</mark> کے بقاء و قیام کی وجہ ہے ہے اس لئے یہ بھی درحقیقت اس امت کے لئے انکیت کی دلیل ہے نہ کہ مردی یا نقصان کانه ارختم <mark>نبوت</mark> کامل ص۳) جب مفتی صاحب کو یہ سلم ہے کہ احمت کمالات <mark>نبوت</mark> حاصل کرنے میں رہیے