الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 159
14- دوسرا اعتراض: مفتی صاحب لکھتے ہیں کہ اس سے نبوت اکتسابی بن جاتی ہے کہ ہو کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیروی کرے وہ نبی بن جائے۔الجواب : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بادی عالم میں طور پر شرابیت اللہ بادی عالم میں طور پر قامہ کاملہ مستقلہ الی یوم القیامہ لانے کی وجہ سے اس شریعت کی پیروی کے بعد نبوت کا ملنا اسے اکتنا ہی نہیں نیا دنیا۔بلکہ پیروی صرف نبوت پانے کے لئے شرط ہے نبوت خدا کے فضل اور ضرورت کے وقت انتخاب سے ہی گر منتخب دہ ہوتا ہے جو نبوت کی ضرورت کے وقت خدا کی نگاہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی کامل پیروی کرنے والا ہوتا ہے یہ بات نہیں کہ ہر شخص جو پیروی کرے وہ خاتم النبین کی مہر لگ کر نبی بن جاتا ہے۔تیسرا اعتراض: ان کی وآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ رومانی بقول مرزا نجا تراشی ہے۔اس کی توجہ روحانی اپنے ایک لاکھ سے زائد جاں نثار صحابہ میں سے کسی کو بنی نہ بنا سکی پھر ان لوگوں کے بعد جن لوگوں کو آپ نے خیر القرون فرمایا اس میں بھی کوئی ایسا نہ نکلا۔جو آپ کی پیروی کر کے آپ کی توجیہ روحانی سے بنی بن سکتا " رختم نبوت کامل 110 الجواب : بے شک خاتم النبیین کے یہ معنی درست ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ روحانی بنی نمائش ہے۔دیگر کسی کے بنی ہفتے میں واسطہ یہ توجہ روحانی خدا کے اس احساس پر نیتی ہے کہ اس وقت دنیا میں بھی بھیجا جانے کی تزورت ہو گئی صحابہ کرام نے بڑے مارج حاصل کئے وہ انبیاء کے کمالات کے جامع تھے مگر ان میں سے کسی کو نبی کا نام اس لئے نہ دیا گیا کہ