الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 161
آگے ہے تو نبوت بھی نبی کا ایک کنال ہے اس سے امت محمدیہ کو حصہ ملتے ہیں مفتی صاحب کو کیوں کہ ہے۔جبکہ آیت استخلاف الفاظ كما استَخْلَفَ۔الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ اس بات پر روشن دلیل ہیں کہ امت تحریر کے خلفاء پہلے گزرے ہوئے خلفاء یعنی انبیاید ہی دوسری کے قابل ہیں لہذا اس آیت کے رو سے کوئی خلیفہ پہلے انبیاء کی طرح مقامہ نبوت پر بھی سرفراز ہو سکتا ہے اور کسی نہ کسی کو ان خلفاء میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ بود کہ مقام نبوت ضرور ملنا چاہیے تھا تا انبیائے بنی اسرائیل سے جو خلفاء موشی تھے اس اہمت کی خلافت کی مشابہت نار متحقق ہو جائے۔شروع سلسلہ خلافت میں تو خلفاء کو نبی کا نام آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم سے قرب عہد کی وجہ سے نہ دیا گیا کیونکہ خاتم مراتب انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور پر فورا اکسی نی پر کی ضرورت نہیں تھی۔لیکن آخری زمانہ میں چونکہ اس کی ضرورت تھی اس لیئے مسیح مو خود کو احادیث ہوتیہ اور ان کے اپنے الہامات میں بنی کا نام دیا گیا۔اس سے بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کو نبوت کے قیام دلبقاء میں کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا میکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض نے مسیح موعود کے مقام نبوت پانے کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمدہ نبوت تشریعیہ کی تمام انبیاء میں سے بلند اور امتیازی شان ظاہر ہوتی ہے۔کیونکر انبیاء سابقین کی پیروی سے صرف دل بیت کا مقام حاصل ہو سکتا تھا۔میگا اللہ تعالے نے ہمیں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے ذریعہ وہ نبی دیا جس کی پیروی سے نہ صرف دوسرے کمالات نبوت بھی حاصل ہو سکتے ہیں جبکہ خود