الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 7
علیہ وسلم صرت عام امت کے ہی باپ نہیں بلکہ انبیاء کے بھی باپ ہیں۔ہاں ان معنی کو یہ منفی مفہوم بھی لازم ہے کہ کوئی ایسائی آپ کے بعد ظاہر نہیں ہو سکتا ہو انتصارات صلے اللہ علیہ وسلم سے فیض پانے اور آپ کو روحانی باپ جاننے کا معترف نہ ہو خاتم الند بین کے بھی مثبت معنے سیاق کلام کے لحاظ سے آیت میں موزون ہیں محض آخری نبی کے معنی ایک منفی مفہوم ہے۔مگر آیت مثبت مفہوم کو چاہتی ہے کیونکہ قائدہ یہ ہے کہ اگر ول کن سے پہلے جملہ منفی ہو جیسا کہ آیت زیر بحث میں مَا كَانَ مُحمد آبا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِکھ کا حملہ ہے تو ولکن کے بعد آنے والے جملہ کا مفہوم مثبت ہونا چاہیئے یہ بات مفتی صاحب کو بھی مسلم ہے چنانچہ انہوں نے لکھا ہے ولکن رسول اللہ میں دوسرے معنی سے ابوت کا اثبات کیا گیا ہے۔مگر آخری بنی کے معنی منفی معصوم پوستمل ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔اور یہ معنی خود مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندی کو بھی مسلم نہیں کیونکہ وہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی علی الاطلاق نہیں مانتے بلکہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام نبی اللہ کی آمد کے قائل ہیں۔مفتی صاحب موصوف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی آخر میں وصف نبوت کے پانے کے لحاظ سے قرار دیتے ہیں۔حالانکہ حسب حدیث نبوى كُنتُ نَدِيَّا وَاد مربينَ الْمَاءِ و الحسین رئیں اس وقت بھی نبی تھا جبکہ آدم پانی اور مٹی کے درمیاں تھا، بتاتی ہے وصف نبوت آپ کو تمام انبیاء سے پہلے ملا ہے۔جب مفتی صاحب موصوف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت علی نبی الله