الحقّ المُبین فی تفسیر خاتم النبیین — Page 8
کی آمد کے قائل ہیں تو پھر وہ یہ کیسے کہ سکتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ علم علی الاطلاق آخری نبی ہیں اور کوئی نہی آپ کے بعد حیثیت روحانی باپ کے نہیں ہو سکتا حالا کہ خاتم النبین سے بلحاظ سیاق آیت مقصودان کا یہ ثابت کرنا تھا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت کے لئے کوئی اور روحانی باپ معینی نبی نہیں ہو گا۔جماعت احمدیہ اور علمائے اہلسنت سو اس محل پر اگر مفتی صاحب خاتم النبیین کا مفہوم آخری نبی مسیح وجود کے امتی بنی ہے متفق ہیں علی الاطلاق لیتے تو وہ بھی یہ عقیدہ نہیں رکھ سکتے تھے کہ حضرت علیہ السلام بنی اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تشریف لا کر اہل عالمہ کی تربیت کریں گے۔پھر یہ عقیدہ صرف معنی میں ہے! کا ہی نہیں بلکہ اکثر علماء اہلسنت آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت پیسے نبی اللہ کی اصالتاً بہشت ثانیہ کے قائل ہیں اور اس طرح خاتم النبیین کے بعد ایک نبی کا آنا ضروری قرار دیتے ہیں۔مگر اس شرط کے ساتھ وہ بنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بھی ہوگا۔خلاصہ کلام یہ ہوا کہ علماء اہل سنت کے نزدیک حضرت صلی علیہ السلام دوبارہ مبعوث ہو کر نبی اور رسول تو ہوں گے مگر ساتھ ہی حضرت رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے امتی بھی ہوں گے۔پس ایک پہلو سے بنی اور ایک پہلو سے امتی کا نصیب جو بقول ان علماء کے حضرت عیسی علیہ السلام کو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد مسیح موعود ہو کر ملے گا۔پی نصب آیت